اپر کوہستان مالی اسکینڈل: چاروں ملزمان کی اثاثوں سے دستبرداری کی درخواستیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
احتساب عدالت پشاور نے اپر کوہستان مالی اسکینڈل کے 4 ملزمان کی اپنے اثاثوں سے دستبرداری سے متعلق درخواستیں منظور کر لیں۔
احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چاروں ملزمان کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، نیب سرینڈر شدہ اثاثے اپنی تحویل میں لے۔
بیرون ملک فرار ملزم کو انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے گا: نیب ذرائع
احتساب عدالت کا کہنا ہے کہ 2 ملزمان کے اکاؤنٹس میں 14 کروڑ سے زیادہ کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جبکہ 2 ملزمان کے نام پر مختلف شہروں میں پلاٹس خریدے گئے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اپنی مرضی سے اثاثوں سے دستبردار ہوئے، درخواست گزاروں کے مطابق ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔