اوپن یونیورسٹی میں اردو اے آئی سافٹ ویئر”گرامورہ”کی رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اردو زبان کے فروغ اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی لسانیاتی سافٹ ویئر”گرامورہ برائے اردو”کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔
تقریب کی مہمانانِ خصوصی وزیرِ مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر اور سینئر سیاست دان و دانشور سینیٹر پرویز رشید تھے جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے تقریب کی میزبانی کی۔ت
قریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ وجیہہ قمر نے کہا کہ اردو ہماری قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کی علامت ہے اور اسے مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سافٹ ویئر تعلیمی تحقیق، ڈیجیٹل لرننگ، ترجمہ اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ثابت ہوگا۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اردو محض رابطے کی زبان نہیں بلکہ ہماری فکری اور تہذیبی تاریخ کی امین ہے، اور اس نوعیت کے لسانیاتی سافٹ ویئر اردو زبان کے ڈیجیٹل مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سافٹ ویئر ایک غیر معمولی اور قابلِ تحسین اقدام ہے جو اب تک ہونے والے کاموں میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اور مرکزُالسنہ و علومِ ترجمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی کو اس کامیاب کاوش پر مبارکباد دی۔
سابق وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ اقوام اپنی مادری زبان میں ہی ترقی کرتی ہیں۔ انہوں نے اس سافٹ ویئر کی کمرشلائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں یہ ہر طالب علم کے موبائل فون میں دستیاب ہونا چاہیے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ یونیورسٹی جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو قومی زبان کے فروغ کے لیے بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “گرامورہ برائے اردو”خودکار لسانی تجزیے، متن کی درجہ بندی اور صوتی و تحریری ڈیٹا کی پروسیسنگ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
تقریب کے آغاز پر معزز مہمانوں نے سافٹ ویئر کی باضابطہ رونمائی کی اور سافٹ ویئر ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران جہانگیر اور معروف کالم نگار خورشید ندیم نے اس منصوبے کو اردو زبان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
تقریب کا اہتمام یونیورسٹی کے سینٹر برائے انگلش لینگویج اینڈ ٹرانسلیشن اسٹڈیز نے کیا۔ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی نے منصوبے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ فیکلٹی ممبر ڈاکٹر لبنیٰ عمر نے سافٹ ویئر کی تیاری کے مختلف مراحل اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔