اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا سروسز چلانے پر پابندی نافذ کردی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ نے ان سروسز کو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں اب بغیر رجسٹریشن ٹیکسی اور بائکیا چلانے والے افراد کے خلاف سخت کاروائی ہوگی:
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے تمام آن لائن ٹیکسی اور بائکیا سروسز کی باضابطہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تمام ڈرائیورز اور گاڑیوں کی معلومات جمع کی جائیں گی، رجسٹریشن فارم پر اسلام…
— DC Islamabad (@dcislamabad) February 9, 2026
انتظامیہ کے مطابق تمام آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ جمع کیا جائے گا، جس تک اسلام آباد پولیس کو بھی براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔
رجسٹریشن کے عمل کے دوران ڈرائیورز کو مسافروں کی تفصیلات ایپ کے ذریعے اپ لوڈ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ہدایت کے مطابق مسافر کا شناختی کارڈ نمبر درج کیے بغیر کسی بھی ڈرائیور کو سواری لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کل سے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ بغیر رجسٹریشن گاڑیوں، بائیکیا سروسز اور ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آن لائن ٹیکسی انتظامیہ بائیکیا پابندی عائد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ٹیکسی انتظامیہ بائیکیا پابندی عائد وی نیوز لائن ٹیکسی اور اسلام آباد
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔