اسلام ٹائمز: سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی لوگ زمانۂ امام حسینؑ میں ہوتے تو کیا وہ حضرت زینبؑ کے خطبوں کے بارے میں بھی یہی کہتے کہ وہ امام حسینؑ کے جنازے پر سیاست کر رہی ہیں؟ کیونکہ ان کے نزدیک شہید کے خون کے لیے آواز اٹھانا، ظلم کے خلاف کلمۂ حق کہنا، اور قاتل کو بے نقاب کرنا سب سیاست ہے۔ اس منطق کے مطابق تو کربلا کی ہر صدا جرم ٹھہرتی ہے، اور خاموشی سب سے بڑی عبادت۔ تحریر: ڈاکٹر سید جاوید شیرازی
میرے گھر خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر مجلسِ وحدتِ مسلمین مولانا جہانزیب علی، مولانا نذر علی روحانی اور مولانا محمد اقبال بہشتی صاحب نائب صدر مجلس علماء مکتب اھلبیتؑ (دور دراز کے جنازوں میں شرکت کے بعد) تشریف لائے۔ اسی نشست میں مولانا آقا جہانزیب علی کا مشورہ تھا کہ لاشوں پر سیاست کے عنوان سے کچھ لکھا جانا چاہیئے۔ یہ محض ایک عنوان نہیں، بلکہ ہمارے عہد کی سب سے سفاک حقیقت کا نام ہے، ایک ایسی حقیقت جس میں مظلوم کے خون کو بھی خاموشی کے کفن میں لپیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک عرصے سے جب بھی ہمارے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، جب بھی ہمارے جوانوں کی لاشیں اٹھتی ہیں، تو جو کوئی ان کے لیے آواز بلند کرے، اس پر فوراً ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ لاشوں پر سیاست کر رہا ہے۔ یہ جملہ اب ایک ہتھیار بن چکا ہے، ایسا ہتھیار جو قاتل کے خلاف اٹھنے والی ہر صدا کو دبانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مفاداتی بے حسی کو تقدس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔
جی نائن میں جب ہم جنازے پڑھنے گئے تو مولانا شیخ شفا صاحب نے برملا حقیقت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری رات انتظامیہ کے لوگ یہی کہتے رہے کہ کوئی اجتماعی جنازہ نہ ہو، کوئی مظاہرہ نہ ہو، بس خاموشی کے ساتھ جنازوں کو ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے، اور کوئی آواز نہ اٹھے۔ یعنی ریاستی سطح پر بھی یہی خواہش ہے کہ خون بہے، لاشیں اٹھیں، مگر شہر خاموش رہے۔ اور اسی خاموشی کو جواز دینے کے لیے یہاں سے بھی کچھ لوگ، جنازوں پر سیاست کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف انتظامیہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ آواز نہ اٹھے، اور دوسری طرف کچھ مذہبی و سماجی چہرے اسی دباؤ کو اخلاقی اور دینی لبادہ پہنا کر پیش کر رہے ہیں، تاکہ اپنی مفاداتی بے حسی کو تقدس کے نام پر چھپایا جا سکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں مقدس سمجھا جائے، کہ وہ جنازوں پر سیاست نہیں کرتے اور اسی بہانے وہ ہر اس شخص کی ساکھ کو مشکوک بنائیں جو شہداء کے خون پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر شہداء کے لیے کوئی آواز نہ اٹھائے، اگر ظلم کے خلاف کوئی احتجاج نہ ہو، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ شہداء لاوارث قرار پاتے ہیں۔ ان کا خون زمین پر بہہ کر خاموش ہو جاتا ہے، اور قاتل مزید بے خوف ہو جاتا ہے۔ شہید کا خون تو چیخ چیخ کر مطالبہ کرتا ہے کہ کوئی ہو جو اس کے لیے آواز بلند کرے، کوئی ہو جو اس راستے پر چلے جس پر وہ اپنے خون کے ساتھ چل کر دکھا گیا ہے۔
یہاں عوام سے کوئی شکوہ نہیں۔ جن کا اپنا عزیز شہید ہوا ہو، وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جلد از جلد جنازہ اٹھایا جائے، ماں اپنے بیٹے کو، بہن اپنے بھائی کو آخری بار دیکھ لے۔ یہ فطری ہے، انسانی ہے۔ مگر اجتماعی اور سنجیدہ سطح پر ذمہ داری یہ تھی کہ ان کی نمازے جنازہ اسلام آباد میں اکھٹی پڑھی جاتی، تاکہ اقتدار کے ایوانوں تک مظلوم کی آہ پہنچتی، تاکہ قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو بتایا جاتا کہ یہ لاشیں کسی ویرانے میں نہیں گریں، یہ ایک زندہ قوم کے بیٹوں کی لاشیں ہیں۔
ترلائی میں مسجدِ خدیجۃ الکبریٰ میں دھماکہ یعنی ایسی جگہ نشانہ بنایا گیا جہاں پہلے ہی مفاداتی بے حسی غالب ہے، جہاں اجتماعی ردعمل کی توقع کم ہو۔ مقصد صرف قتل نہیں تھا، بلکہ خوف پھیلانا اور آواز کو دفن کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مظلوم کا خون بہایا جائے، مگر اس خون کی گواہی سننے والا کوئی نہ ہو۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی لوگ زمانۂ امام حسینؑ میں ہوتے تو کیا وہ حضرت زینبؑ کے خطبوں کے بارے میں بھی یہی کہتے کہ وہ امام حسینؑ کے جنازے پر سیاست کر رہی ہیں؟ کیونکہ ان کے نزدیک شہید کے خون کے لیے آواز اٹھانا، ظلم کے خلاف کلمۂ حق کہنا، اور قاتل کو بے نقاب کرنا سب سیاست ہے۔ اس منطق کے مطابق تو کربلا کی ہر صدا جرم ٹھہرتی ہے، اور خاموشی سب سے بڑی عبادت۔ آخر میں سوال بہت سادہ ہے مگر فیصلہ کن بھی:
شہید کے خون کا تقاضا کیا ہے؟
کیا اس کے لیے آواز اٹھانا سیاست ہے؟
کیا اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرنا سیاست ہے؟
اگر یہ سب سیاست ہے تو پھر یہی سیاست میرا دین ہے، یہی سیاست میری جان ہے۔ میں اس سیاست کو قبول کرتا ہوں جو مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو، اور اس پاکیزگی اور خاموشی کا انکار کرتا ہوں جو قاتل کے حق میں جاتی ہو۔ کیونکہ شہید کا خون خاموشی نہیں مانگتا، وہ گواہی مانگتا ہے، وہ قیام مانگتا ہے، وہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے آواز ظلم کے خلاف سیاست ہے پر سیاست کے ساتھ جاتا ہے کا خون کے خون
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز