نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار کی فراہمی اولین ترجیح ہے، رانا مشہود
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرا م رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ نوجوان ہمارا روشن مستقبل ہیں،انکو میرٹ کی بنیاد پر برسرروزگار کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانا اولین ترجیح ہے، آئی ٹی برآمدات کو25 بلین ڈالر تک بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان کی پہلی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی لانچ کرنے جا رہے ہیں، وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت ویژن2047 پالیسی پر کام جاری ہے، 35 فیصد خواتین لیبر فورس کا حصہ بنیں گی، ڈیجیٹل یوتھ ہب پر8 لاکھ سے زائد بچے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ پنجاب میں کیرئیر کونسلنگ اور پلیسمنٹ سینٹر کے زیر اہتمام جاب فیئر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی محمد علی، طارق ریاض، ڈائریکٹر کیریئر کونسلنگ اینڈ پلیسمنٹ سنٹرڈاکٹر فوزیہ ہادی، فیکلٹی ممبران،اساتذہ،طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانامشہو د احمد خان نے ایکسپو کا افتتاح بھی کیا۔ رانا مشہود نے کہاکہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت ہم نے نوجوانوں کوملک اور بیرون ممالک روگاز کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد پروگرام کا آغاز کیا ہے،آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان نوجوانوں کو قابلیت کی بنیاد پر آگے آنے کا موقع فراہم کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ صرف تھوڑے سے عرصہ میں ڈیجیٹل یوتھ ہب پر8 لاکھ سے زائد بچے اوررجسٹر ڈ ہو چکے ہیں، پورٹل پر میرٹ کی بنیاد پر ملک اور بیرون ممالک میں آئی ٹی سیکٹر،گرین ٹیکنالوجی سیکٹر،بڑنس سیکٹر سمیت مختلف سیکٹرز میں ملازمت کے بے شمار مواقع میسر ہیں،جن کے حصول کے لیے کسی کی سفارش کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ صرف میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر تمام مواقع موجود ہیں، نوجوانوں کو لیپ ٹاپس کی تقسیم ہو، کاروبار شروع کرنے کیلئے قرضہ جات کی فراہمی ہو یا نیوٹیک کے ساتھ مل کر ٹریننگ کی بات ہو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت پورے پاکستان میں مختلف پروگراموں پر دن رات کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایسا پالیسی فریم ورک لے آئے ہیں جس کے تحت نوجوانوں کی گروتھ کو یقینی بنایا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اگلے ماہ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمٹ پالیسی کا اجرا بھی ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت35 فیصد خواتین لیبر فورس کا حصہ بنیں گی، ہر سال اس پروگرام کے تحت10 فیصد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن بنائی جائے گی، پاکستان کی پہلی نیشنل ایڈولوسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی میں مختلف عمر کے بچوں کو رہنمائی فراہم کریں گے اور روزگار کے مواقع مہیا کریں گے۔انہوں نے کہا اس کے علاوہ 2047 پر بھی کام جاری ہے جس کے تحت ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم اپنے تمام اہداف کو حاصل کر سکیں،اس پروگرام کے تحت ہر آئندہ آنے والے ہر سال کا ایک ہدف مقررکیا جائے گا تاکہ مقاصد کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
رانا مشہود نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں اے آئی ویک بھی شروع ہو رہا ہے، میں پاکستان کے ہر کونے میں جاتا ہوں اور جوانوں سے ملتا ہوں سب ایک چیز مانگتے ہیں وہ ہے میرٹ، میں نوجوانوں کی بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمارا روشن مستقبل ہیں،میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے آئی سیکٹر کے فروغ کی ہدایت کی ہے، ہمیں اگلے 4 سالوں میں آئی ٹی برآمدات کو 2.
رانا مشہود نے کہاکہ 2016 میں دنیا کہ رہی تھی کہ پاکستان ٹاپ30 اکانومی بنے گا، بدقسمتی سے ہم پر ایک ففتھ جنریشن وار مسلط کی گئی اور ترقی کا سفر روکنے کی کوشش کی گئی، دہشتگردی دشمن کا آخری حربہ ہوتا ہے، اسلام آباد میں جو دہشت گردوں کا حملہ ہوا وہ بھی پاکستان کو ناکام بنانے اور ڈرانے کی ناکام کوشش ہے، قوم کے حوصلے بلند ہیں، دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پاک فوج قربانیوں کی نئی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے،جلد دہشت گردوں کا صفایا کر دیا جائے گا۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ آج اگر سب سے زیادہ ترقی کی بات ہوتی ہے تو وہ پاکستان کی ترقی کی بات ہوتی ہے، آج پاکستان کو کئی سالوں بعد اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل ہو رہا ہے،پاکستان کی آئی ٹی دنیا کے اندر اپنا مقام پیدا کر رہی ہے،آج پاکستان کو مقامات مقدسہ کی سکیورٹی کے لیے چنا گیا، برآمدات اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ترقی کا یہ سفر جاری ہے،جلد اس ملک کو معاشی قوت بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔