تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر دہ اس کا مقابلہ کرنا چاہیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
وزیر سندھ برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں تنقید اور مخالفت نہ ہو تو بعض جماعتوں کی سیاست نہیں چلتی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پی اے کانفرنس کے بعد عالمی بینک کے صدر اور وفد نے مختلف شہروں کے دوروں کے بعد حکومتِ سندھ کے منصوبوں کی تعریف کی۔
انہوں نے اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بھارتی خفیہ اداروں اور طالبان کی معاونت سے معصوم اور نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ دشمن ممالک جو پاکستان کا سامنے سے مقابلہ نہیں کر سکتے اور جنہیں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس حملے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ دشمن کس حد تک گر سکتا ہے، جبکہ بھارتی فیک اکاؤنٹس کے ذریعے واقعے کو بنیاد بنا کر ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ دشمن کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم ایک قوم بن کر متحد ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی کراچی میں مخالفت نہ کریں تو ان کی سیاست کیسے چلے گی، جبکہ باقی شہروں میں ایسے واقعات پر یہ خاموش رہتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، تو کیا وہاں کے لوگ انسان نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تنقید اور مخالفت نہ ہو تو بعض جماعتوں کی سیاست نہیں چلتی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اتوار کو ہڑتال کے اعلان پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اتوار کو ویسے بھی کاروبار، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں، دکانیں اور دفاتر بند ہونے سے عوام کو ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر کسی کو خوش کرنا ہے تو کرتے رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔