لاشوں پر سیاست کا الزام اور اصل حقیقت کیا؟ علامہ احمد اقبال نے حکمرانوں کو بےنقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ جب معصوم شہری، نمازی اور عبادت گاہوں میں موجود لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنیں، تو خاموشی اختیار کرنا جرم کے برابر ہے۔ سوال اٹھانا، جواب مانگنا اور ریاستی ناکامیوں کی نشاندہی کرنا سیاست نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشتگرد واقعات کے بعد ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واقعی احتجاج، سوال اور مطالبات کرنا ’’لاشوں پر سیاست‘‘ ہے یا پھر یہ الزام اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی ایک منظم کوشش ہے؟ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین معروف عالمِ دین علامہ احمد اقبال نے اسی تناظر میں حکمرانوں کے بیانیے کو کھل کر بے نقاب کر دیا ہے۔ علامہ احمد اقبال کا کہنا ہے کہ جب معصوم شہری، نمازی اور عبادت گاہوں میں موجود لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنیں، تو خاموشی اختیار کرنا جرم کے برابر ہے۔ سوال اٹھانا، جواب مانگنا اور ریاستی ناکامیوں کی نشاندہی کرنا سیاست نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’لاشوں پر سیاست‘‘ کا نعرہ دراصل اُن صفوں میں چھپے منافقوں کی آخری پناہ گاہ ہے جو نہ شہداء کا درد محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی قاتلوں کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات رکھتے ہیں، یہ وہ عناصر ہیں جو ہر سانحے کے بعد عوامی غصے کو دبانے اور اصل ذمہ داروں کو بچانے کے لیے مذہب، حب الوطنی اور استحکام کے نام پر خاموشی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔