وکلاء اور حکومت کے درمیان مؤثر رابطوں کا فروغ ناگزیر ہے، اعظم تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اسلام آباد، بہاولپور، ساہیوال اور فیصل آباد بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور عہدیداران نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وکلاء کو درپیش انتظامی اور پیشہ ورانہ سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیرِ قانون نے اس موقع پر کہا کہ حکومت وکلاء کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے اور بار اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے نظامِ انصاف میں وکلاء کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مؤثر اور شفاف انصاف کی فراہمی میں وکلاء کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے وکلاء برادری اور حکومت کے درمیان مؤثر رابطوں کا فروغ ناگزیر ہے۔ ملاقات میں وکلاء نمائندگان نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور وزارتِ قانون کی جانب سے تعاون کو سراہا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ وکلاء کے مسائل کے حل اور بار اداروں کی مضبوطی کے لیے مشاورت اور تعاون کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔