پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت، وکلاء اور صحافیوں کے سخت دلائل WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد: پیکا ایکٹ کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء اور صحافی نمائندوں نے قانون کو آزادیٔ اظہار کے خلاف اور آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے سخت دلائل دیے۔

سماعت کے دوران سمیع الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پیکا قانون میں فیک نیوز کی کوئی واضح اور قانونی تعریف موجود نہیں، جس کے باعث یہ قانون من مانی تشریح کے تحت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا قانون اس حد تک مبہم ہے کہ موسم سے متعلق غلط خبر دینے پر بھی اس کے تحت کارروائی ممکن ہے۔
سمیع الدین ایڈووکیٹ کے مطابق اس قانون میں یہ شرط بھی موجود نہیں کہ مدعی مقدمہ متاثرہ فریق ہی ہو، کوئی بھی شخص مدعی بن سکتا ہے، جو قانون کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون عملی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری نے عدالت سے عبوری ریلیف فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت دو درجن کے قریب صحافیوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی اس قانون کا کھلے عام غلط استعمال کر رہی ہیں، حتیٰ کہ سڑک کی تعمیر میں ناقص میٹیریل استعمال ہونے کی خبر پر بھی پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا۔
آصف بشیر چوہدری نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر کوئی ایڈورس ایکشن ہوا تو آپ موجود ہوں گے، مگر پورے پاکستان کے اہلِ قلم آج بھی آپ کی عدالت کی جانب دیکھ رہے ہیں اور تاحال عبوری ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اس مقدمے کی سماعت کو عدالت میں ایک سال مکمل ہو چکا ہے، آپ بطور ایڈہاک جج ایک سال تک کیس سنتے رہے اور اب کنفرم ہو چکے ہیں، اس کے باوجود صحافیوں کو ریلیف نہیں ملا۔

ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 اور 19-A سے متصادم ہے اور اس قانون کے ذریعے ہر اختلافی آواز کو فیک نیوز کے نام پر خاموش کرا دیا گیا ہے۔

سماعت کے موقع پر عدالت میں سینئر وکلاء عمران شفیق ایڈووکیٹ، سمیع الدین ایڈووکیٹ، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ، صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آصف بشیر چوہدری، جنرل سیکرٹری راجہ بشیر عثمانی، صدر ہائی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن حسین احمد چوہدری، اویس یوسفزئی، احتشام کیانی اور فیصل محمود عباسی بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحقیقی آزادی مارچ کے 2 کیسز میں علی امین گنڈا پور اور عمر ایوب اشتہاری قرار ہتکِ عزت کیس؛ شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست پر 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5000 روپے سے زائد کا اضافہ سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران خان سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد دہشت گردوں سے روابط کا کیس؛ پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد چین، سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا 2026 کی چوتھی ریہرسل کا کامیاب انعقاد بی سی بی صدر اور آئی سی سی وفد کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک بھارت میچ پر تفصیلی گفتگو TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پیکا ایکٹ کے کی درخواست درخواست پر کے خلاف

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن