این آئی سی وی ڈی، اہم مقدمات عدالتی سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
غیر قانونی تقرریاں، ترقیاں ، قوانین کے برخلاف سی او اوکا ایڈیشنل چارج دینا شامل
معاملات پروفیسر طاہر صغیر کی نااہلی و بدانتظامی کے باعث سندھ ہائی کورٹ تک پہنچے
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (NICVD) سے متعلق نہایت اہم نوعیت کے مقدمات رواں ہفتے سندھ ہائی کورٹ، کراچی میں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ ان مقدمات میں غیر قانونی تقرریاں، غیر قانونی ترقیوں (پروموشنز) اور قوانین کے برخلاف ایک فرد کو چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) کا ایڈیشنل چارج دینا شامل ہے ، جسے عدالت پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق ان اہم مقدمات کی سماعت اسی رواں ہفتے متوقع ہے اور عدالتی فیصلے کا بھی جلد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملات پروفیسر طاہر صغیر کی نااہلی اور بدانتظامی کے باعث سندھ ہائی کورٹ تک پہنچے ، جہاں یہ تاحال زیرِ التواء ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی پروفیسر طاہر صغیر کے متعدد غلط اور غیر قانونی فیصلوں کو معزز عدالت نے کالعدم (Set Aside) قرار دیا، جس کے نتیجے میں این آئی سی وی ڈی کو شدید مالی نقصان پہنچا اور ادارے کے کروڑوں روپے ضائع ہوئے ۔مزید بتایا گیا ہے کہ ان تمام غیر قانونی اقدامات کے باعث ادارے کو ہر ماہ ملینز آف روپے کا نقصان ہو رہا ہے ، جس کی ریکوری کی ذمہ داری بھی براہِ راست پروفیسر طاہر صغیر پر عائد ہوتی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پروفیسر طاہر صغیر
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔