اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا سروسز چلانے پر پابندی نافذ کردی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ نے ان سروسز کو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق تمام آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ جمع کیا جائے گا، جس تک اسلام آباد پولیس کو بھی براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔رجسٹریشن کے عمل کے دوران ڈرائیورز کو مسافروں کی تفصیلات ایپ کے ذریعے اپ لوڈ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ہدایت کے مطابق مسافر کا شناختی کارڈ نمبر درج کیے بغیر کسی بھی ڈرائیور کو سواری لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ کل سے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ بغیر رجسٹریشن گاڑیوں، بائیکیا سروسز اور ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسحاق ڈار کا یورپی یونین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اقدامات پر زور اسحاق ڈار کا یورپی یونین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اقدامات پر زور سائفر کیس ، سپریم کورٹ نے عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی علما و مشائخ کونسل کا دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی مکمل حمایت کا اعلان انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دیگا، وزیر اعظم پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیل کے ہاتھوں غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے اطالوی ہم منصب اوریورپین کمشنر کا رابطہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔