آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے والوں کیلئےاہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے تمام آن لائن ٹیکسی سروسز کی باضابطہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے، رجسٹریشن کے تحت تمام ڈرائیورز اور گاڑیوں کی معلومات جمع کی جائیں گی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو تمام ٹیکسی سروسز کے سی ای اوز سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ سیکرٹری اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ بائیکیا چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ تمام غیر رجسٹرڈ چلنے والی گاڑیوں اور بائیکیا کی رجسٹریشن ڈیجیٹل آٹومیشن کے تحت کی جائے گی، رجسٹریشن ایپ پر اسلام آباد پولیس کو بھی تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی۔
رجسٹریشن کے بعد ڈرائیور کے لیے مسافروں کی تفصیلات ایپ پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہوگا، مسافر کے شناختی کارڈ نمبر کے اندراج کے بغیر ڈرائیور کو سواری لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی ہدایت پر کل سے باضابطہ رجسٹریشن کا آغاز کیا جائے گا۔
13 سے 15 فروری کے درمیان زلزلہ خیز سرگرمیوں کا خدشہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔