18ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں‘ اتفاق رائے سے تبدیلی ممکن ہے‘رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-08-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے اور قومی اتفاق رائے سے اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے اپنے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچا اور تمام اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، مگر صوبے اب یہ اختیارات نچلی سطح پر ڈسٹرکٹ اور تحصیلوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں کو دعوت دی کہ وزیراعظم کے “میثاقِ استحکامِ پاکستان’’ کے وژن کے تحت مل بیٹھ کر بات کریں، کیونکہ پاکستان مضبوط ہوگا تو ہی تمام صوبے مضبوط ہوں گے۔ بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب تک بحران کا درست ادراک نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوگا، دہشت گردی اور لاپتا افراد کا معاملہ ایک ساتھ شروع ہوا اور ایک ساتھ ہی ختم ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے اور پلوں کو اڑانے والے نجات دہندہ نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اس مسئلے کا حل وہی ہے جو ریاست نے معرکہ حق میں اپنایا۔ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں مگر بات ٹیبل پر ہوگی، سڑکوں پر احتجاج سے نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم کے میثاق استحکام پاکستان کے تحت تمام اکائیوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی مضبوطی میں ہی بلوچستان سمیت تمام صوبوں کی بقا ہے۔ رانا ثنااللہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میاں نواز شریف ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی کارکردگی سے مطمئن تھے اور ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی انہیں ہٹانا نہیں چاہتے تھے۔ رانا ثنااللہ نے حالیہ پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اس قدر سفاک ہو چکے ہیں کہ بسوں سے اتار کر شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور ایک ایک شخص پر 100، 100 گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گوادر میں 24 سے زاید بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کے سانحے پر بھارتی میڈیا میں جشن کا سماں تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کارروائی کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ