آن لائن جوا تشہیر کیس، ڈکی بھائی، اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد، یوٹیوبر کا صحت جرم سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
آن لائن جوا تشہیر کیس، ڈکی بھائی، اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد، یوٹیوبر کا صحت جرم سے انکار WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس ) مقامی عدالت نے آن لائن جوا ویب سائٹس کی مبینہ تشہیر کے مقدمے میں معروف یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی، ان کی اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہوں کو 23 فروری کو طلب کر لیا۔ سماعت کے موقع پر ڈکی بھائی، ان کی اہلیہ اور دیگر شریک ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد سعدالرحمان اور دیگر ملزمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں ان پر آن لائن جوا ایپس اور ویب سائٹس کی تشہیر کا الزام عائد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ان پر جوا ایپس کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد وہ 26 نومبر کو جیل سے رہا ہو گئے تھے۔ کیس کی مزید سماعت 23 فروری کو ہوگی، جہاں گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائد اسحاق ڈار کا یورپی یونین کیساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اقدامات پر زور سائفر کیس ، سپریم کورٹ نے عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی علما و مشائخ کونسل کا دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی مکمل حمایت کا اعلان انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دیگا، وزیر اعظم پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیل کے ہاتھوں غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور دیگر ملزمان آن لائن جوا ڈکی بھائی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔