کراچی کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما میں شوگر اور السر کے مریضوں کی ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے جدید ویسکولر ہائبرڈ سوئیٹ قائم کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا جدید ویسکولر ہائبرڈ سوئیٹ ہے۔ کراچی کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما میں ویسکولر ہائبرڈ سوئیٹ کا افتتاح وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ یہ کامیابی ماہر ڈاکٹرز کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے اور جدید سرجری سے مریضوں کو بہتر اور بروقت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شوگر اور السر کے مریضوں میں اعضاء کاٹنے کے واقعات میں واضح کمی متوقع ہے۔ وزیر صحت سندھ نے اس موقع پر نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر صابر کو ہدایت دی کہ نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور اسے 24 گھنٹے فعال رکھا جائے۔

انہوں نے کراچی میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی لوکل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی کی بڑھتی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر میں دو مزید جدید ٹراما سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جس سے عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔

ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق وی ٹیک ہائبرڈ ویسکولر سوئیٹ ویسکولر سرجری میں ایک انقلابی قدم ہے، خاص طور پر ٹراما، ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں، شریانوں کی بیماریوں اور دیگر اعضا کو لاحق شدید خطرات کے علاج کے لیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مریضوں

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار