اسلامی نظریاتی کونسل نے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلامی نظریاتی کونسل نے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ رواں سال صدقہ فطر و فدیہ صوم کم ازکم 300 روپے فی کس ہے۔جو کے حساب سے 1100، کھجور 1600 روپے صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کرنا ہوگا
کشمش 3800 روپے، منقی کے حساب سے 5400 روپے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ سرکاری آٹا کے حساب سے 200 روپے صدقہ و فدیہ صوم ادا کیا جائے۔اس کے علاوہ گندم کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 9 ہزار روپے، جو کے حساب سے 33 ہزار روپے، کھجور کے حساب سے فدیہ 48 ہزار روپے، کشمش کے حساب سے 114000 روپے جبکہ منقی کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 162000 روپے ادا کرنا ہوگا، جبکہ سرکاری آٹا کے حساب سے 30 روزوں کا فدیہ 6000 روپے بنتا ہے۔چیئرمین نظریاتی کونسل راغب حسین نعیمی کا کہنا ہے کہ صدقہ فطر ہر مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض ہے، جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا یا 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان انوسٹر فورم جدہ کے جنرل سیکرٹری عبدالخالق لک کی قائد ن لیگ نواز شریف سے خصوصی ملاقات پاکستان انوسٹر فورم جدہ کے جنرل سیکرٹری عبدالخالق لک کی قائد ن لیگ نواز شریف سے خصوصی ملاقات انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل تھائی طلبہ کے اعزاز میں تقریب چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس11فروری کو طلب کر لیا وزیراعلیٰ مریم نواز سے صدر عالمی بینک کی ملاقات، شراکت داری بڑھانے پر اتفاق آن لائن جوا تشہیر کیس، ڈکی بھائی، اہلیہ عروب جتوئی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد، یوٹیوبر کا صحت جرم سے انکار اسلام آباد میں بغیر رجسٹریشن آن لائن ٹیکسی اور بائیکیا چلانے پر پابندی عائدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صدقہ فطر اور فدیہ صوم اسلامی نظریاتی کونسل
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔