Jang News:
2026-06-02@20:43:29 GMT

نیپرا نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

نیپرا نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

اس نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ نئی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق بائیو گیس صارفین پر بھی ہوگا۔ نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروادیا گیا۔ بلنگ سائیکل کے اختتام پر بلنگ نظام کے تحت بل جاری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ملک میں 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیداوار کے سولر لگ چکے، نیپرا حکام نیپرا نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز2025 کےمسودے پرنیپرا کل عوامی سماعت کرے گا

ریگولیشنز کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق بجلی خریدی جائے گی، نیٹ میٹرنگ صارفین کو موجودہ رائج ٹیرف کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔

ریگولیشنز کے مطابق نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی پر صارفین کو سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی۔ نیٹ میٹرنگ کےلیے معاہدے کی مدت 5 سال تک محدود کردی گئی۔ معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید پانچ سال کی تجدید کی جائے گی۔

نئی ریگولیشنز کے بعد نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2015 معطل ہوجائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز ریگولیشنز کے جائے گی

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان