میزائل یا طیاروں سے زیادہ قوم کی استقامت اصل طاقت ہے، آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قوم سے خطاب کے دوران طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کی استقامت کو قرار دے دیا۔
تہران میں جاری ایک ٹیلی وژن خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قومی طاقت کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل قوت جدید ہتھیاروں یا جنگی طیاروں میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر ایرانی قوم کو دباؤ میں رکھنے کی کوششیں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ مایوس نہ ہو جائیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں اس امر پر زور دیا کہ میزائل اور طیارے کسی ملک کی طاقت کا صرف ایک پہلو ہیں، جبکہ اصل بنیاد عوام کی قوتِ ارادی اور استقامت ہوتی ہے جو مشکل حالات میں قوم کو متحد رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو درپیش چیلنجز کے باوجود قوم نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل بھی کی کہ 11 فروری کو انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی جائیں تاکہ قومی یکجہتی کا اظہار ہو اور مخالف قوتوں کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایسے اجتماعات دشمن کے حوصلے پست کرنے اور عوامی اتحاد کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔