کسی بھی قوم کی اصل طاقت جدید ہتھیاروں میں نہیں قوم کی قوت ارادی سے ہے، ایرانی سپریم لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت جدید ہتھیاروں یا فضائی صلاحیت میں نہیں بلکہ عوام کی مضبوط قوتِ ارادی اور استقامت میں ہوتی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ دشمن اس وقت تک ایرانی قوم کو دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بناتے رہیں گے جب تک وہ مایوسی کا شکار نہ ہو جائیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
ان کا کہنا تھا کہ قومی طاقت کا معیار میزائلوں اور طیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے حوصلے اور ثابت قدمی سے ناپا جاتا ہے۔
سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ 11 فروری کو انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر بھرپور اور عظیم الشان ریلیاں نکال کر دشمنوں کو واضح پیغام دیں اور انہیں مایوس کریں۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان مسقط میں مذاکرات ہوئے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات بہت اچھے رہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
امریکا نے اس سے قبل 2025 میں ایران پر حملہ کرنے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ تہران کی جوہری صلاحیت تباہ کردی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آیت اللہ خامنہ ای ایرانی سپریم لیڈر جدید ہتھیار فضائی صلاحیت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایرانی سپریم لیڈر جدید ہتھیار فضائی صلاحیت وی نیوز سپریم لیڈر
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔