چابہار سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت کا ایرانی تیل بردار جہازوں پر قبضہ، امریکی دباؤ یا سفارتی حکمت عملی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
چابہار سے پیچھے ہٹنے کے بعد بھارت کا ایرانی تیل بردار جہازوں پر قبضہ، امریکی دباؤ یا سفارتی حکمت عملی؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
بھارت کی ایران سے متعلق خارجہ پالیسی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد بھارتی حکام نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو ضبط کر لیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام کے تحت تین آئل ٹینکروں کو تحویل میں لیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر کی گئی، جہاں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی نامی تیل بردار جہازوں کو روکا گیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تینوں جہاز ایران سے منسلک تھے اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت اس سے قبل امریکی دباؤ کے باعث چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے دستبردار ہو چکا ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ شراکت داری کے دعوے کیے جاتے رہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا کی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل بھارت نے ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی ادائیگی بھی کر دی تھی۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی متضاد اور موقع پرستانہ خارجہ پالیسی کی عکاس ہے۔
ماہرین کے مطابق چابہار منصوبے سے علیحدگی کے بعد اس نوعیت کے اقدامات ایران کے ساتھ اعتماد کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور خطے میں بھارت کے سفارتی کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی جاپان کی ‘آئرن لیڈی’ سانیے تاکائیچی کی تاریخی فتح، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت مل گئی سات دن میں اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کےلیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا، چیف کمشنر پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت، وکلاء اور صحافیوں کے سخت دلائل ہتکِ عزت کیس؛ شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست پر 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم چین ، جمی لائی کو تین مقدمات میں20 سال قید کی سزا سنا دی گئی پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 5000 روپے سے زائد کا اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایرانی تیل بردار جہازوں کے بعد
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ