ایران میں ڈالر بحران اور مہنگائی کے پیچھے واشنگٹن کی پالیسی کارفرما، امریکی اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ کینتھ نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی شدید قلت اور معاشی بحران کے پس پردہ امریکا کی منظم پالیسی شامل تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اعتراف امریکی سینیٹ میں سوال و جواب کے دوران سامنے آیا، جہاں سینیٹر کیٹی الزبتھ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر سوال اٹھایا تھا۔
اسکاٹ کینتھ نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے ایران میں ڈالر کا ایسا بحران پیدا کیا جس کے اثرات پورے مالیاتی نظام پر مرتب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کے مہینے میں ایک ایرانی بینک دیوالیہ ہوا جس کے بعد بحران نے شدت اختیار کر لی اور صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق امریکی اقدامات کے باعث ایران کے مرکزی بینک کو بڑے پیمانے پر کرنسی نوٹ چھاپنے پڑے، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ چھاپنے کے نتیجے میں ایران میں مہنگائی بے قابو ہو گئی اور عام شہری شدید متاثر ہوئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دباؤ کی اس پالیسی کے تحت واشنگٹن نے ایران کی تیل کی برآمدات کو بھی تقریباً صفر تک محدود کر دیا تھا۔ تیل کی آمدن بند ہونے سے معاشی دباؤ مزید بڑھا جس کے نتیجے میں دسمبر کے دوران ملک میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے خلاف 28 دسمبر کو پرامن احتجاج کا آغاز ہوا، تاہم بعد ازاں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک منظم گروہ ان مظاہروں میں داخل ہو گئے۔ ان گروہوں نے احتجاج کو تشدد کی جانب دھکیل دیا اور مظاہرین، سکیورٹی فورسز، سرکاری عمارتوں اور مساجد پر حملے کیے گئے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ موساد سے وابستہ عناصر نے عوامی غصے کو تشدد میں بدل دیا، جس کے نتیجے میں ایران میں ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے دوران 3 ہزار 500 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صورتحال کے باوجود ایرانی حکومت نے مظاہروں پر قابو پا لیا، تاہم معاشی بحران کے اثرات تاحال برقرار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایران میں
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔