واٹس ایپ کو اے آئی حریفوں کو رسائی نہ دینا مہنگا پڑگیا، یورپی یونین حرکت میں آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
یورپی یونین نے میٹا کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واٹس ایپ پر مصنوعی ذہانت کے حریفوں کو رسائی دینے سے روکا گیا تو ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف سخت عبوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں تصفیہ، میٹا اور یوٹیوب کیخلاف تاریخی مقدمہ جاری
یورپی ریگولیٹرز نے میٹا پر عدم مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی غالب پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے میٹا کو بھیجے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر واٹس ایپ کی مالک کمپنی نے یورپی قوانین کی خلاف ورزی بند نہ کی تو حریف کمپنیوں کو پہنچنے والے ممکنہ سنگین نقصان کو روکنے کے لیے عبوری اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
یورپی یونین کی اینٹی ٹرسٹ چیف ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تفتیش کے دوران واٹس ایپ تک حریفوں کی رسائی برقرار رکھنے کے لیے میٹا کے خلاف فوری عبوری اقدامات نافذ کیے جائیں تاکہ میٹا کی نئی پالیسی یورپ میں مسابقت کو ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں صحت مند اور متحرک مسابقت کا تحفظ نہایت اہم ہے۔
مزید پڑھیے: میٹا کی نئی حکمتِ عملی: سوشل میڈیا پر اے آئی فیچرز کے لیے ماہانہ سبسکرپشن پر غور
یورپی کمیشن کے اس اقدام پر میٹا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ میٹا کے ترجمان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین کے لیے واٹس ایپ بزنس اے پی آئی میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں۔
صارفین کے پاس اے آئی کے کئی متبادل موجود ہیں جن تک وہ ایپس، آپریٹنگ سسٹمز، ڈیوائسز، ویب سائٹس اور صنعتی شراکت داریوں کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
میٹا کے ترجمان نے مزید کہا کہ کمیشن کا یہ مؤقف غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ واٹس ایپ بزنس اے پی آئی چیٹ بوٹس کی تقسیم کا بنیادی ذریعہ ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے عبوری اقدامات کی دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب میٹا نے 15 جنوری کو اپنی نئی پالیسی نافذ کی جس کے تحت واٹس ایپ پر صرف میٹا اے آئی اسسٹنٹ کو اجازت دی گئی جبکہ دیگر چیٹ بوٹس کو میسجنگ سروسز سے باہر رکھا گیا۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین ہیکرز کے شدید خطرے میں، فوری بچاؤ کیسے کریں؟
یورپی نگران ادارے کے مطابق عبوری اقدامات کے نفاذ کا انحصار میٹا کے جواب اور اس کے دفاع کے حق پر ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
میٹا واٹس ایپ یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میٹا واٹس ایپ یورپی یونین عبوری اقدامات یورپی یونین واٹس ایپ میٹا کے کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔