اسرائیلی صدر کی آسٹریلیا آمد پر احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سڈنی: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے دورۂ آسٹریلیا کے خلاف پیر کو مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے غزہ میں قتلِ عام پر اسرائیلی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سڈنی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی صدر کے آسٹریلیا پہنچتے ہی ملک بھر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ فلسطین کے حامی گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پیر کی شام ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں منظم احتجاجی مظاہرے کیے.
سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں مظاہرین ایک چوک میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے فلسطین کے حق میں نعرے بازی کی اور اسرائیلی قیادت کو غزہ میں شہریوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیا۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی. ہیلی کاپٹر فضا میں گشت کرتا رہا جبکہ گھڑ سوار پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود رہے۔
پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کالی مرچ کے اسپرے اور آنسو گیس کا استعمال کیا.جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔آسٹریلوی حکام نے اسرائیلی صدر کے دورے سے قبل خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہئے مخصوص علاقوں میں داخلے پر پابندی، لوگوں کو علاقے خالی کرنے کے احکامات اور گاڑیوں کی تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا۔فلسطین کے حامی گروپ کی جانب سے ان اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا تاہم پیر کو سڈنی کی عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
دوسری جانب ان مظاہروں سے کچھ فاصلے پر بونڈی بیچ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں اسرائیلی صدر سمیت یہودی برادری کے افراد، سرکاری حکام اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی صدر
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔