کل کا احتجاج زبردست، لوگوں نے چپ کرکے ووٹ ڈالا، احتجاج بھی چپ کرکے کیا، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ کل کا احتجاج بہت زبردست تھا، لوگوں نے چپ کرکے ووٹ ڈالا اور اب احتجاج بھی چپ کرکے کیا۔
اے ٹی سی راولپنڈی کے باہر کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ پہلے یہ کہتے تھے گھر بیٹھو اب کہتے ہیں باہر نکلو، پاکستانیوں نے خاموشی سے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انسداد دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی) راولپنڈی میں علیمہ خان کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران وکلاء کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ کل کا احتجاج بہت زبردست تھا، لوگوں نے چپ کرکے ووٹ ڈالا تھا احتجاج بھی چپ کرکے کیا، کل کا احتجاج کامیاب تھا آپ جو مرضی کہیں۔
بانی چیئرمین کی ہمشیرہ نے مزید کہا کہ جنہوں نے کل دکانیں بند کرکے احتجاج کرنا تھا انہوں نے کیا، جنہوں نے احتجاج نہیں کرنا تھا انہوں نے نہیں کیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے علیمہ خان کا 1 بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ 2 سال کے کیسز جمع ہوئے تھے، نمایاں پیشرفت یہ ہے کہ اپیلوں پر سماعت کیلئے 3 رکنی بینچ بنا دیا گیا۔
علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ بسنت نہ مناؤ، لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکتا ہے؟ یہ بڑا مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کسی پارٹی کی بسنت تو نہیں ہے، لاہوریوں کا جنون دیکھا بچہ بچہ پتنگیں اڑا رہا تھا، میرا بیٹا 6 فروری کو اپنے بچوں کے ساتھ بسنت منانے گیا تھا، میں نے بھی گھر پر پتنگ اڑائی ہے، میرا بڑا بیٹا بسنت کا شوقین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کل کا احتجاج علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے اے ٹی سی چپ کرکے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔