2030 تک شعبہ اے آئی پر1 ارب ڈالر خرچ کرینگے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہےکہ حکومتِ پاکستان 2032 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے پُرعزم ہے۔
اسلام آباد میں انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشترکہ راہ پرعزم اور جوش کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے۔ پاکستان مصنوعی ذہانت کی شعبے میں 2030 تک ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کی ترقی پہلی ترجیح ہے، انڈس اے آئی ویک ٹیکنالوجیکل منظرنامہ بدل دے گا، بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی ترقی کیلئے کئی منصوبے شروع کیے۔ ملک کی پہلی آئی ٹی یونیورسٹی قائم کی۔ زمین کے ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کا نصاب نہ صرف وفاق کے زیرانتظام اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا بلکہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دوردراز علاقوں کے تعلیمی اداروں میں بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ہماری نوجوان نسل کو قیادت اور ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2030 تک ملک بھر کے طلبہ وطالبات کےلیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی تاکہ عالمی معیار کا ایک مضبوط اور مکمل فعال تحقیقی نظام قائم کیا جاسکے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پروگرام شروع کیا جائے گا جس کے تحت آئی ٹی سے وابستہ نہ ہونے والے 10 لاکھ افراد کو بھی اے آئی کی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور ان کے روزگار اور معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :