بسنت کا وقت ختم، اب پتنگ اڑانے پر سخت ایکشن ہو گا، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ بسنت کا وقت ختم ہوگیا ہے، پتنگ اڑانے کی اجازت نہیں ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اب پتنگ اڑانے پر سخت ایکشن ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے محفوظ بسنت منانے اور زندگی کے رنگ انجوائے کرنے پر لاہور کے عوام، پاکستان اور اوورسیز پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا شکریہ لاہور شکریہ پاکستان شکریہ اوورسیز پاکستانیوں۔
انہوں نے غیرملکی مہمانوں اور غیرملکی سفیروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے لاہور سمیت پاکستانی عوام کے دل جیت لیے ہیں اور محفوظ بسنت منانے پر لاہوری مبارکباد کے مستحق ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ الحمداللہ بسنت کامیاب اور محفوظ ترین منائی گئی جبکہ امریکہ، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ سے لوگ بھی لاہور بسنت منانے آئے، شہریوں نے حکومتی ایس او پیز اور ہدایات پر بھرپور ذمہ داری سے عملدرآمد کیا۔
انہوں نے انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کو محفوظ بنانے میں پولیس، ریسکیو، ضلعی انتظامیہ و دیگر اداروں نے محنت سے ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے نفرت،انتشار اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کردیا ہے، پاکستانیوں نے ترقی،خوشحالی اور امن کو ووٹ دیا اور سپورٹ کیا ہے جبکہ ملک کو کمزور کرنے والے اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔