تیزی سے ابھرتی ہوئی سیاسی قوت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دسمبر میں امریکا کے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ کے تحت کرائے جانے والے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ بنگلا دیش کے 30فیصد ووٹرز سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے حامی ہیں جبکہ جماعت اسلامی کو26 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ طلبہ تحریک کے کارکنوں کی قائم کی ہوئی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو (این سی پی) 6 فیصد ووٹرز نے اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔
جنوری کے وسط میں پروجیکشن بی ڈی، آئی آئی ایل ڈی، جاگورون فاؤنڈیشن اور نیریٹیو کے تحت کرائے گئے سروےکے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو 34.
بنگلا دیش بھر کے لوگ بالکل نچلی سطح پر پائی جانے والی کرپشن، بدانتظامی اور بھتا خوری سے تنگ آنے کے باعث جماعت اسلامی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ بی این پی کو جماعت اسلامی سے شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس موقع سے بھرپور استفادے پر توجہ دی ہے۔ اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کا کردار صاف ستھرا ہے۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ ایسے میں بنگلا دیش جماعت اسلامی خود کو ایک منتظم اور معقول متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے بھتا خوری، کرپشن اور سرکاری اخراجات سے متعلق شکایات کو ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے سنبھالا ہے اور عوام کی آواز بن کر ابھری ہے۔ اس کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی کو بڑے پیمانے پر عوام کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
نوجوانوں میں جماعت اسلامی کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے بلند ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کے نومبر 2025 کے اعداد و شمار اور حقائق کے مطابق بنگلا دیش بھر میں 12 کروڑ77 لاکھ ووٹرز کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ ان میں18 سے35 سال تک کے افراد کی تعداد ساڑھے 4 کروڑ ہے۔ بنگلا دیش کی متعدد جامعات میں حال ہی میں ہونے والے یونین الیکشن میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر نے نمایاں اور حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بی این پی کی حمایت یافتہ تنظیم جاتیتابادی چھاترا دل اہم عہدے جیتنے میں ناکام رہا۔ سیاسی امور کے بہت سے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جامعات کے یونین الیکشن کے نتائج عام انتخابات کے نتائج پر بھی بہت حد تک اثر انداز ہوں گے۔
جماعت اسلامی نے عام انتخابات کے لیے 11 جماعتی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ این سی پی بھی اِس کا حصہ ہے۔ عوامی لیگ چونکہ میدان میں نہیں ہے اس لیے قوی امکان اس بات کا ہے کہ کانٹے کا مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے قائم کیے ہوئے انتخابی اتحادوں کے درمیان ہوگا۔
این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نظریاتی نہیں بلکہ خالص انتخابی ہے۔ این سی پی جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف رکھتی ہے تاہم اصلاحات، انصاف اور انسداد کرپشن کے ایجنڈے پر دونوں میں بڑی حد تک اتفاق ہے۔ اِسی لیے یہ اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔ ناہید اسلام کو یقین ہے کہ یہ 11 رکنی اتحاد الیکشن جیتے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بنانے کا موقع ملا تو فیصلے اتفاق رائے سے کیے جائیں گے اور کسی ایک جماعت کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو ملک بھر میں غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر جانب دار اور خود مختار اداروں کی جانب سے کرائے جانے والےسروے میں بھی یہی بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جماعت اسلامی کی حمایت میں انقلابی نوعیت کا اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ 22 جنوری کو انتخابی مہم کے باضابطہ سرکاری آغاز کے بعد اب تک انھوں نے نصف بنگلا دیش کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران وہ 2 درجن سے زائد اضلاع میں گئے ہیں اور100 سے زائد انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ ہر جلسے میں لوگ بہت بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سننے آئے۔ جماعت اسلامی کے حامیوں کی تعداد میں انتہائی حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے۔ ایسا بھرپور سیاسی جوش و خروش عوام میں کم و بیش ڈھائی عشروں کے بعد دکھائی دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے۔ وہ بڑے پیمانے پر نیشنل اسمبلی کی نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔2024 کی طلبہ تحریک اور اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی معزولی کے بعد کی صورت حال بہت حد تک جماعت اسلامی کے حق میں رہی ہے۔
گزشتہ ماہ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ امریکی سفارت کار جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کارکردگی نہ صرف نمایاں بلکہ فیصلہ کن نوعیت کی رہے گی۔ واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس ایک سفارت کی آڈیو ریکارڈنگ ہے جس میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی سے خوش گوار روابط اور تعلقات کی امید ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس سفارت کار نے یہ بھی کہا تھا کہ مغرب کے معاشی دباؤ کے باعث جماعت اسلامی حکومت کا حصہ ہوجانے پر بھی ملک میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے کچھ خاص نہیں کر پائے گی۔
بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کی قیادت میں حکومت بننے کے امکانات نے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ بھارتی قیادت بنگلادیش جماعت اسلامی کو پاکستان نواز سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی نے1971 میں سابق مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش میں تبدیل کرنے کی تحریک کی بھی مخالفت کی تھی اور عوامی لیگ کے عسکری ونگ مکتی باہنی کو کچلنے میں پاکستانی فوج کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ عوامی لیگ کے دور حکومت میں بنگلادیش کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا ہے۔ ایسے میں اگر بنگلادیش میں جماعت اسلامی کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تو اِس کا اثر خارجہ پالیسی پر ضرور مرتب ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں جماعت اسلامی کی دیش جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کے کہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہے کہ جماعت فیصد ووٹرز اسلامی کو بی این پی کی حمایت
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :