Jasarat News:
2026-06-02@22:04:28 GMT

تیزی سے ابھرتی ہوئی سیاسی قوت

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دسمبر میں امریکا کے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ کے تحت کرائے جانے والے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ بنگلا دیش کے 30فیصد ووٹرز سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے حامی ہیں جبکہ جماعت اسلامی کو26 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ طلبہ تحریک کے کارکنوں کی قائم کی ہوئی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو (این سی پی) 6 فیصد ووٹرز نے اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔
جنوری کے وسط میں پروجیکشن بی ڈی، آئی آئی ایل ڈی، جاگورون فاؤنڈیشن اور نیریٹیو کے تحت کرائے گئے سروےکے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو 34.

7 فیصد، بنگلا دیش جماعت اسلامی کو33.6فیصد اور این سی پی کو7. 1 فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

بنگلا دیش بھر کے لوگ بالکل نچلی سطح پر پائی جانے والی کرپشن، بدانتظامی اور بھتا خوری سے تنگ آنے کے باعث جماعت اسلامی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ بی این پی کو جماعت اسلامی سے شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس موقع سے بھرپور استفادے پر توجہ دی ہے۔ اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کا کردار صاف ستھرا ہے۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ ایسے میں بنگلا دیش جماعت اسلامی خود کو ایک منتظم اور معقول متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے بھتا خوری، کرپشن اور سرکاری اخراجات سے متعلق شکایات کو ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے سنبھالا ہے اور عوام کی آواز بن کر ابھری ہے۔ اس کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی کو بڑے پیمانے پر عوام کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔

نوجوانوں میں جماعت اسلامی کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے بلند ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کے نومبر 2025 کے اعداد و شمار اور حقائق کے مطابق بنگلا دیش بھر میں 12 کروڑ77 لاکھ ووٹرز کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ ان میں18 سے35 سال تک کے افراد کی تعداد ساڑھے 4 کروڑ ہے۔ بنگلا دیش کی متعدد جامعات میں حال ہی میں ہونے والے یونین الیکشن میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر نے نمایاں اور حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بی این پی کی حمایت یافتہ تنظیم جاتیتابادی چھاترا دل اہم عہدے جیتنے میں ناکام رہا۔ سیاسی امور کے بہت سے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جامعات کے یونین الیکشن کے نتائج عام انتخابات کے نتائج پر بھی بہت حد تک اثر انداز ہوں گے۔
جماعت اسلامی نے عام انتخابات کے لیے 11 جماعتی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ این سی پی بھی اِس کا حصہ ہے۔ عوامی لیگ چونکہ میدان میں نہیں ہے اس لیے قوی امکان اس بات کا ہے کہ کانٹے کا مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے قائم کیے ہوئے انتخابی اتحادوں کے درمیان ہوگا۔

این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نظریاتی نہیں بلکہ خالص انتخابی ہے۔ این سی پی جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف رکھتی ہے تاہم اصلاحات، انصاف اور انسداد کرپشن کے ایجنڈے پر دونوں میں بڑی حد تک اتفاق ہے۔ اِسی لیے یہ اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔ ناہید اسلام کو یقین ہے کہ یہ 11 رکنی اتحاد الیکشن جیتے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بنانے کا موقع ملا تو فیصلے اتفاق رائے سے کیے جائیں گے اور کسی ایک جماعت کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو ملک بھر میں غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر جانب دار اور خود مختار اداروں کی جانب سے کرائے جانے والےسروے میں بھی یہی بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جماعت اسلامی کی حمایت میں انقلابی نوعیت کا اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ 22 جنوری کو انتخابی مہم کے باضابطہ سرکاری آغاز کے بعد اب تک انھوں نے نصف بنگلا دیش کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران وہ 2 درجن سے زائد اضلاع میں گئے ہیں اور100 سے زائد انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ ہر جلسے میں لوگ بہت بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سننے آئے۔ جماعت اسلامی کے حامیوں کی تعداد میں انتہائی حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے۔ ایسا بھرپور سیاسی جوش و خروش عوام میں کم و بیش ڈھائی عشروں کے بعد دکھائی دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے۔ وہ بڑے پیمانے پر نیشنل اسمبلی کی نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔2024 کی طلبہ تحریک اور اس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی معزولی کے بعد کی صورت حال بہت حد تک جماعت اسلامی کے حق میں رہی ہے۔

گزشتہ ماہ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ امریکی سفارت کار جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کارکردگی نہ صرف نمایاں بلکہ فیصلہ کن نوعیت کی رہے گی۔ واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس ایک سفارت کی آڈیو ریکارڈنگ ہے جس میں اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جماعت اسلامی سے خوش گوار روابط اور تعلقات کی امید ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس سفارت کار نے یہ بھی کہا تھا کہ مغرب کے معاشی دباؤ کے باعث جماعت اسلامی حکومت کا حصہ ہوجانے پر بھی ملک میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے کچھ خاص نہیں کر پائے گی۔
بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کی قیادت میں حکومت بننے کے امکانات نے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ بھارتی قیادت بنگلادیش جماعت اسلامی کو پاکستان نواز سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی نے1971 میں سابق مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش میں تبدیل کرنے کی تحریک کی بھی مخالفت کی تھی اور عوامی لیگ کے عسکری ونگ مکتی باہنی کو کچلنے میں پاکستانی فوج کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ عوامی لیگ کے دور حکومت میں بنگلادیش کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا ہے۔ ایسے میں اگر بنگلادیش میں جماعت اسلامی کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تو اِس کا اثر خارجہ پالیسی پر ضرور مرتب ہوگا۔

معروف حسن گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں جماعت اسلامی کی دیش جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کے کہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ہے کہ جماعت فیصد ووٹرز اسلامی کو بی این پی کی حمایت

پڑھیں:

شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق

 ( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی