Jasarat News:
2026-06-02@20:43:28 GMT

ملتان سلطانز مہنگی ترین فرنچائز، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

ملتان سلطانز مہنگی ترین فرنچائز، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:  ایکسپوسینٹرلاہور میں ملتان سلطانز کی نیلامی کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ولی ٹیکنالوجیز نے 2 ارب 45 کروڑ روپے میں ملتان سلطانز کی کامیاب بولی دے کر ٹیم کے ملکیتی حقوق حاصل کرلیے ہیں۔

نیلامی کے بعد ملتان سلطانز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی مہنگی ترین فرنچائز بن گئی۔جس کا نیا نام راولپنڈی رکھنے کااعلان بھی کیا گیا ،اس سے قبل دو نئی فرنچائز حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ریکارڈ قیمت پر فروخت کے بعد ملتان سلطانز کی بولی کا آغاز ایک ارب 82 کروڑ روپے سے کیا گیا۔نیلامی کی تقریب میں جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور پاکستان کے لیجنڈ بلے باز ظہیر عباس بھی شریک تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تکنیکی جانچ پڑتال کے بعد پانچ گروپس کو نیلامی کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ ان گروپس میں ڈی ایس ایم (ڈہرکی شوگر ملز)، ولی ٹیکنالوجیز، سی ڈی وینچرز، پارٹیکل اگنائیٹر اور ایم نیکسٹ شامل تھے۔ ڈی ایس ایم گروپ ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین کا گروپ تھا جو ابتدائی مرحلے میں ہی نیلامی سے باہر ہوگیا تھا۔

سی ڈی وینچرز کی جانب سے ابتدائی طور پر 2 ارب 6 کروڑ روپے کی بولی لگا گئی، جس کے بعد ولی ٹیکنالوجیز نے 2 ارب 7 کروڑ جبکہ پارٹیکل اگنائیٹر نے لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے 2 لاکھ 15 ہزار روپے کی بولی لگائی۔جس کے بعد نیلامی کا عمل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا اور سی ڈی وینچرز اور ولی ٹیکنالوجیز کے درمیان سخت مقابلہ جاری رہا۔ سی ڈی وینچرز کی جانب سے 2 ارب 35 کروڑ کی قیمت لگائے جانے کے بعد ولی ٹیکنالوجیز نے 2 ارب 45 کروڑ روپے کی بلند ترین قیمت لگائی۔

سی ڈی وینچرز کی جانب سے سوچ بچار کے لیے وقت مانگا گیا تاہم اسٹریٹیجک ٹائم آؤٹ مکمل ہونے کے بعد مزید بولی نہیں لگائی، اس طرح ولی ٹیکنالوجیز نے اگلے دس سال کے لیے ملتان سلطانز کے ملکیتی حقوق حاصل کرلیے ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ولی ٹیکنالوجیز نے ملتان سلطانز سی ڈی وینچرز کی جانب سے کروڑ روپے کے بعد

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا