پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی شروع، بیس پرائز 182 کروڑ روپے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کے مالکانہ حقوق کے لیے نیلامی کا عمل شروع ہو گیا ہے جس میں پانچ بڈرز کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔
نیلامی کی تقریب ایکسپو سینٹر میں منعقد کی جا رہی ہے جہاں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور قومی ٹیم کے سابق کپتان ظہیر عباس بھی موجود ہیں۔
ملتان سلطانز کی بیس پرائز 182 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث بولی میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔تقریب میں ملتان سلطان کی نیلامی کے لیے 215 کروڑروپے تک کی بولی لگائی گئی ہے۔
سی ڈی وینچرز نے 215 کروڑ روپے کی بولی لگا دی اور پھر دوبارہ سی ڈی وینچرز نے ملتان سلطانز کی بولی 219 کروڑ روپے لگائی ، ملتان سلطانز کی بولی 226 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل کی نمایاں اور مقبول فرنچائزز میں شمار ہوتی ہے جس کے باعث اس کے مالکانہ حقوق کے حصول کے لیے بڈرز خاصا جوش دکھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز کی کروڑ روپے کی بولی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔