اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار کو مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کردیا گیا ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا
جس کے مطابق علی مصطفی ڈار کو مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ علی مصطفی ڈار ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیٹے ، اورصدر مسلم لیگ ن نواز شریف کے داماد ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر اور وزیر اعظم کاپاکستانی قیادت سے اسلام آباد بم دھماکے پر تعزیت کا اظہار چینی صدر اور وزیر اعظم کاپاکستانی قیادت سے اسلام آباد بم دھماکے پر تعزیت کا اظہار چیف جسٹس سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، وزیراعلیٰ مریم نواز پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے 74فیصد سے کم ہو کر 70فیصد پر آگیا، وفاقی وزیر خزانہ سابق جج طارق جہانگیری کی عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر اسلامی نظریاتی کونسل نے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر علی مصطفی ڈار
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔