اس کیس میں یہ الزام شامل ہے کہ بجرنگ دل کے ارکان نے ایک بزرگ مسلمان دکاندار پر اپنی دکان کا نام تبدیل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور 31 جنوری کو شہر میں جارحانہ احتجاج کیا۔ اسلام ٹائمز۔ دیپک کمار (محمد دیپک) جو 26 جنوری کو کوٹ دوار میں "بابا" نامی دکان کے تنازعہ کے بعد مشہور ہوئے تھے، انہیں اب ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ ایک نامعلوم شخص نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیپک کو قتل کرنے والے کو دو لاکھ روپے انعام دینےکا اعلان کیا ہے۔ ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد علاقے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کوٹ دوار کے رہنے والے دیپک کمار نے 8 فروری کو کوٹ دوار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعے جان سے مارنے کی کھلی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پوڑی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرویش پنوار نے فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

پولیس نے کوٹ دوار پولس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعہ 351(3) کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم کی شناخت موتیہاری (بہار) کے رہنے والے راجہ اتکرش کے طور پر ہوئی ہے۔ جس کے بعد 9 فروری کی صبح نامزد ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایس ایس پی پوڑی نے بتایا کہ ضلع پولیس بہار پولیس سے رابطہ قائم کرکے ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پولیس ٹیم ملزمان تک پہنچنے کے لئے مسلسل کوآرڈینیشن کر رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثنا 26 اور 31 جنوری کے پرانے تنازعہ کے سلسلے میں ایس ایس پی سرویش پنوار کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کوٹ دوار دکان کے نام کے تنازعہ سے متعلق تین ایف آئی آر کی جانچ کے دوران بجرنگ دل کے 40 نامعلوم ارکان میں سے کم از کم 14 کی شناخت کی ہے۔ پانچ رکنی ایس آئی ٹی کی قیادت کرنے والے سی او تشار بورا نے کہا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد ان کی شناخت کی ہے۔ انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنے اور مزید قانونی کارروائی کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

اس کیس میں یہ الزام شامل ہے کہ بجرنگ دل کے ارکان نے ایک بزرگ مسلمان دکاندار پر اپنی دکان کا نام تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا اور 31 جنوری کو شہر میں جارحانہ احتجاج کیا۔ تین ایف آئی آر میں سے ایک پولیس نے بجرنگ دل کے 40 نامعلوم ممبران کے خلاف ازخود درج کی تھی۔ ملزم مبینہ طور پر دیپک کمار کے جم اور گھر کے باہر جمع تھے۔ دیپک کمار نے 26 جنوری کو بزرگ دکاندار کا دفاع کرتے ہوئے کچھ ارکان کی مزاحمت کی تھی۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے دیپک کمار کے خلاف اشتعال انگیز فرقہ وارانہ نعرے لگاتے ہوئے قومی شاہراہ 534 کو بلاک کر دیا۔ ان پر حالات پر قابو پانے کے لیے پہنچے پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بجرنگ دل کے دیپک کمار جنوری کو کوٹ دوار کے خلاف کے بعد

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا