چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ورلڈ بینک گروپ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی )کے وفد سے پیر کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات ہوئی۔ جسمیں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر فنانس طاہر نعیم کے علاوہ ڈی جی اسلام آباد واٹر اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔
ملاقات میں سی ڈی اے اور آئی ایف سی کے مابین معاہدے کے تحت نئے شروع ہونے والے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔معاہدے کے تحت آئی ایف سی اسلام آباد واٹر ایجنسی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف منصوبوں میں اپنی تیکنیکی معاونت فراہم کریگا۔ اس ضمن میں آئی ایف سی اسلام آباد میں پانی اور سیوریج سے متعلقہ مختلف منصوبوں کیلئے اپنی ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز فراہم کریگا۔ ان منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کیلئے سی ڈی اے بورڈ سے اصولی منظوری لی جاچکی ہے۔واضح رہے، ان منصوبوں کی تکمیل سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی اور سیوریج کے نظام سے متعلق مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صاف پانی کی بہتر فراہمی، پانی کے میٹروں کی تنصیب، نان ریونیو واٹر کو کم کرنا ان منصوبوں کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح واٹر پمپس کو انرجی ایفیشنٹ بنانے اور سیوریج لائنوں بشمول سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی مرمت و بحالی کے اقدامات بھی انہی منصوبوں کا حصہ ہیں۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے سی ڈی اے کے ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا جس سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بہتر پانی کی فراہمی پر خرچ کیا جائیگا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان منصوبوں کی تکمیل سے آبی وسائل کی مانیٹرنگ میں بہتری اور پانی کے ضیاع پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ ان تمام منصوبوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ان منصوبوں کی ٹائم لائنز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس میں ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی )کی تیکنیکی صلاحیتوں، تجربات و تعاون سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومتی اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانا ہے،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک حکومتی اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانا ہے،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر چینی صدر اور وزیر اعظم کاپاکستانی قیادت سے اسلام آباد بم دھماکے پر تعزیت کا اظہار چیف جسٹس سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، وزیراعلیٰ مریم نواز پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے 74فیصد سے کم ہو کر 70فیصد پر آگیا، وفاقی وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن محمد علی رندھاوا سی ڈی اے کے وفد
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔