ہانیہ عامر کا نکاح کب اور کس کیساتھ ہوگا، اداکارہ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
نامور پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے نکاح سے متعلق کمنٹ نے ایک بار پھر سے ان کی شادی کی افواہوں کو جنم دے دیا۔
اداکارہ ہانیہ عامر کی شادی سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر ان کے ایک کمنٹ پر رد عمل کے بعد دوبارہ زیرِ بحث آگئی ہیں، جس پر مداح حیران وپریشان ہیں۔
پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی انسٹاگرام سیلیبریٹی ہانیہ عامر سوشل میڈیا پر نہایت متحرک رہتی ہیں اور اکثر مداحوں سے براہِ راست گفتگو کرتی نظر آتی ہیں جب کہ وہ اکثر اپنے بولڈ انداز کے باعث وہ اکثر تنازعات کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔
اس کے باوجود 28 سالہ اداکارہ کسی معاملے پر خاموش نہیں رہتیں اور عموماً ہر سوال کا کھل کر جواب دیتی ہیں اور ایسا ہی ایک موضوع ان کی شادی بھی ہے۔
نامور پاکستانی گلوکار عاصم اظہر کی منگنی میرب علی کے ساتھ ختم ہونے کے بعد سے ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کے دوبارہ ایک ہونے کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔
شادی اور طلاق کی پیشگوئی، ہانیہ عامر نے نجومی کو کیا جواب دیا؟
ہانیہ عامر کا مشی خان کے ’ایلومیناٹی‘ کے الزامات پر رد عمل وائرل
اگرچہ دونوں نے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی، تاہم اداکارہ کی عاصم کے کنسرٹس میں موجودگی، انسٹاگرام پر ان کے گانوں کا استعمال، ان کے گھر میں خاندانی تقریب میں شرکت نے ان افواہوں کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔
حال ہی میں عاصم کے گھر قوالی نائٹ میں شرکت کے بعد شادی کی چہ مگوئیاں مزید تیز ہو گئیں ہیں جب کہ ہانیہ نے ہمیشہ کی طرح مزاحیہ انداز میں مداحوں کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔
سوشل میڈیا پر گردش ہونے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہانیہ اور عاصم رمضان میں شادی کرنے والے ہیں۔ ایک مداح نے براہِ راست سوال کیا کہ نکاح سحری کے بعد ہوگا یا افطار کے بعد؟
جس پر اداکارہ ہانیہ عامر نے جواب دیا کہ ’دوپہر جمعہ‘
اس جواب کے بعد مداح ایک بار پھر تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا ہانیہ مذاق کر رہی ہیں یا واقعی اپنی شادی کی تصدیق کر دی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہانیہ عامر کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔