اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ وہ ایسا کوئی حکم نہیں دیں گے جس کے تحت کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑنے کی ہدایت دی جائے، اس وقت نہ تو کسی کنٹینر کی تیاری ہو رہی ہے اور نہ ہی اسلام آباد کی جانب کسی مارچ یا احتجاج کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے حقوق اور آئینی مؤقف کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا ہے، پی ٹی آئی اب تک 10 مرتبہ سپریم کورٹ اور 16 مرتبہ ہائی کورٹ سے رجوع کر چکی ہے، پارٹی کی استدعا یہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا 17 اہم کیسز کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ قانونی ابہام ختم ہو سکے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمایوں دلاور کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی ہے، پارٹی نے پارلیمان، عدالتوں اور دیگر تمام آئینی فورمز پر اپنی آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
اسلام آباد کی طرف مارچ یا کسی ممکنہ احتجاج کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کسی بھی کنٹینر کی تیاری یا اس کا رخ اسلام آباد کی جانب کرنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں، پارٹی اس وقت کسی ایسے اقدام پر غور نہیں کر رہی جو حالات کو مزید کشیدہ کرے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال میں جو بھی فیصلہ مناسب سمجھیں کریں، چاہے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہو یا مزاحمت کا، اس حوالے سے حتمی فیصلہ اپوزیشن قائدین کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح اس وقت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے تاکہ براہ راست ان سے رہنمائی لی جا سکے، موجودہ حالات میں اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑنے کا نہ کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ زیر غور آیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ آئندہ کبھی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کے نتیجے میں کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ یا چڑھائی کے لیے کہا جائے۔ ان کے مطابق پارٹی اب سیاسی جدوجہد کو آئینی، قانونی اور پارلیمانی دائرے میں رکھتے ہوئے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسلام آباد کی طرف بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔