بہاولنگر میں 3 سالہ بچہ گندے پانی کے گڑھے میں گرکر جاں کی بازی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
بہاول نگر: 3 سال کا بچہ گندے پانی کے گڑھے میں گرکر جاں کی بازی ہار گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بہاول نگر میں اڈا سونڈھا روڈ پر ایک دلخراش واقعے میں تین سالہ بچہ گندے پانی کے کھمبے میں گر کر جاں بحق ہو گیا، واقعے کے وقت بچے کا والدین کی نظروں سے کچھ دیر کے لیے دور رہنا اس المناک حادثے کا سبب بنا۔ اہل محلہ نے فوری طور پر بچے کی لاش گڑھے سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کی، جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔
یہ واقعہ چند روز قبل لاہور کے بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے حادثے کی یاد دلاتا ہے، جہاں گٹر میں گرنے کے نتیجے میں ایک ماں اور اس کے بیٹے کی جان چلی گئی تھی۔ اس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت اقدامات کا حکم دیا تھا اور گٹر کے ڈھکن چوری، خرید و فروخت پر سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم بدقسمتی سے حفاظتی اقدامات ناکافی ثابت ہوئے۔
پولیس اور مقامی حکام کے مطابق اس قسم کے حادثات شہری علاقوں میں ناقص سیوریج نظام اور حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں۔ قصور میں بھی ایک شادی ہال کے مین ہول میں گرنے کے واقعے کے بعد تین سالہ بچے کی موت اسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین شہری منصوبہ بندی اور عوامی تحفظ کے شعبے میں بار بار متنبہ کر چکے ہیں کہ ناقص ڈھکن، کھلے گٹر اور سیوریج کے خراب نظام بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور فوری اصلاحات کے بغیر ایسے واقعات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔ شہری حلقوں نے بھی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گٹر ڈھکن کی تنصیب اور نگرانی کے عمل کو موثر بنایا جائے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔