پشاور: دوران حراست شہری کی ہلاکت کے کیس میں نامزد 2 پولیس اہلکار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پشاور:
دوران حراست شہری کی ہلاکت کے کیس میں نامزد پولیس اہلکاروں کو ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور طلاء محمد نے دونوں پولیس اہلکاروں کی ضمانت درخواستیں خارج کردیں جس کے بعد پولیس نے دونوں پولیس اہلکاروں کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق پولیس اہلکار مطیع اللہ اور سعود خان سفید ڈھیر پولیس پوسٹ میں تعینات تھے، دونوں پولیس اہلکاروں نے گاڑی چوری کے الزام میں ایک زخمی شہری کو حراست میں رکھا، حراست کے دوران شہری محمد اعجاز سکنہ ریگی کی موت واقع ہوگئی۔
پراسیکیوشن کے مطابق واقعے کی انکوائری جوڈیشل مجسٹریٹ نے کی، ایف آئی اے نے انکوائری کے بعد دونوں پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا، مقدمہ درج کرنے کے بعد دونوں پولیس اہلکاروں نے عدالت سے عبوری ضمانت کے لیے رجوع کیا تھا۔
عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت درخواستیں خارج کردیں جس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے حراست میں لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دونوں پولیس اہلکاروں کے بعد
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔