پاکستانی عازمین حج کیلئے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
پاکستانی عازمین حج کیلئے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع WhatsAppFacebookTwitter 0 9 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستانی عازمین حج کیلئے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔ترجمان وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ویزا بائیو میٹرک کی تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے جس کے بعد عازمین 17 فروری تک بائیو میٹرک کرواسکتے ہیں۔
ترجمان مذہبی امور نے عازمین کو ہدایت کی کہ سعودی ویزہ بائیو میٹرک موبائل ایپ سے گھر بیٹھے مکمل کریں کیونکہ ویزا کیلئے سعودی ویزا بائیومیٹرک کی شرط لازم ہے۔وزارت مذہبی امور نے واضح کیا کہ بائیو میٹرک کے بغیر حج ویزہ نہیں لگے گا۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ موبائل کے علاوہ چھ بڑے شہروں میں قائم سعودی تاشیرہ سینٹرز سے بھی بائیومیٹرک کروائی جا سکتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عازمین حج تاشیرہ سینٹرز سے ملنے والی رسید یا تصدیقی ای میل اپنے پاس محفوظ رکھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ایس ایل فرنچائز ملتان سلطانز 2ارب 45 کروڑ میں فروخت، نام راولپنڈی رکھ دیا گیا پی ایس ایل فرنچائز ملتان سلطانز 2ارب 45 کروڑ میں فروخت، نام راولپنڈی رکھ دیا گیا پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے فروغ پر اتفاق چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی ملاقات حکومتی اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانا ہے،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اسحاق ڈار کے بیٹے علی مصطفی ڈار مشیر وزیراعلی پنجاب برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات مقرر چینی صدر اور وزیر اعظم کاپاکستانی قیادت سے اسلام آباد بم دھماکے پر تعزیت کا اظہارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔