عراق: سابق صدر صدام حسین کے قریبی ساتھی کو پھانسی دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
سابق عراقی صدر صدام حسین کے قریبی ساتھی اور میجر جنرل سعدون صبری جمیل القیسی کو انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث پائے جانے پر پھانسی دے دی گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق میجر جنرل سعدون القیسی پر الزام تھا کہ انہوں نے 1980 میں معروف عالم دین محمد باقر الصدر اور ان کی بہن بنت الہدیٰ کو پھانسی دلوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: عراق کے سابق صدر صدام حسین کی جیل میں لکھی یادداشتیں منظر عام پر آگئیں
عراق کی نیشنل سیکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ جنرل القیسی مذہبی الحکیم خاندان کے متعدد افراد سمیت دعوت اسلامی کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل میں بھی ملوث رہے۔
نیشنل سیکیورٹی سروس کے مطابق میجر جنرل سعدون القیسی کو منصفانہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پیر کے روز پھانسی دی گئی۔
القیسی صدام حسین کے دورِ حکومت میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جن میں ریاستی سلامتی کے ڈائریکٹر اور بصرہ و نجف میں ڈائریکٹر آف سیکیورٹی کے عہدے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو حراست میں لیا؟
بتایا گیا ہے کہ صدام حکومت کے 2003 میں خاتمے کے بعد سعدون القیسی شام فرار ہو گئے تھے، بعد ازاں وہ فروری 2023 میں عراق کے شہر اربیل پہنچے جہاں چند ماہ بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news سابق صدر سعدون صبری جمیل القیسی صدام حسین عراق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعدون صبری جمیل القیسی
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔