کابینہ اجلاس کے بعد دیگر وزراء ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و نشریات غلام عباس نے کہا کہ ہر سال سردیوں کے دوران گلگت بلتستان میں ڈیزل جنریٹر چلانے کا رواج رہا ہے، رواں سال بھی ڈیزل جنریٹر چلانے کی تجویز تھی جس کیلئے محکمہ کے پاس 8 کروڑ روپے موجود تھے جبکہ مزید 12 کروڑ روپے کی ضرورت تھی۔ کابینہ نے جب اس پر غور کیا اور ڈیزل جنریٹر کے آؤٹ پٹ کا جائزہ لیا تو ڈیزل جنریٹر سے صرف 40 منٹ اضافی بجلی ملنی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے صوبے میں ڈیزل جنریٹر چلانے کی تجویز مسترد کر دی جبکہ غواڑی پاور پراجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کا عمل ختم کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی۔ پیر کے روز گلگت میں کابینہ اجلاس کے بعد دیگر وزراء ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات و نشریات غلام عباس نے کہا کہ ہر سال سردیوں کے دوران گلگت بلتستان میں ڈیزل جنریٹر چلانے کا رواج رہا ہے، رواں سال بھی ڈیزل جنریٹر چلانے کی تجویز تھی جس کیلئے محکمہ کے پاس 8 کروڑ روپے موجود تھے جبکہ مزید 12 کروڑ روپے کی ضرورت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے جب اس پر غور کیا اور ڈیزل جنریٹر کے آؤٹ پٹ کا جائزہ لیا تو ڈیزل جنریٹر سے صرف 40 منٹ اضافی بجلی ملنی تھی، اس طرح یہ قومی خزانے کا ضیاع تھا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں ڈیزل جنریٹرز چلانے اور تیل کے استعمال سے متعلق کافی شکایتیں سامنے آئی ہیں اور انکوائیریز بھی ہوئی ہیں لہٰذا وزیر اعلیٰ اور کابینہ ممبران نے ڈیزل جنریٹر چلانے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ایک اور اہم ایجنڈے میں غواڑی پاور پراجیکٹ کیلئے زمینوں کے حصول کا عمل ختم کرنے کی بھی تجویز تھی۔ اس کو بھی کابینہ نے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ پراجیکٹ پی ایس ڈی پی سے ختم ہو چکا ہے اور جس کی بحالی کیلئے جی بی کے تمام  سیاسی لیڈران اور موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے چونکہ یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں لہٰذا ایسے میں اس منصوبے کو مکمل ختم کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے گلگت بلتستان میں ایف سی کی تعیناتی کو جولائی 2026ء تک توسیع دینے کی منظوری بھی دیدی، ایف سی کی مدت گزشتہ سال ستمبر میں ختم ہوئی تھی۔دوسری جانب اجلاس سے قبل نگراں صوبائی وزراء اور متعلقہ سیکریٹریز کا تعارفی سیشن ہوا۔ کابینہ اجلاس کے آغاز پر اسلام آباد ترلائی سانحے کے شہداء کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اجلاس میں مختلف اہم امور زیر بحث آئے جن میں تیز رفتار سکیموں کی جانب فنڈز کی منتقلی کیلئے 60 کروڑ روپے کی منظوری مانگی گئی۔ اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چیف اکانومسٹ محکمہ پلاننگ نے جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ جس کی منظوری دیدی گئی۔ کابینہ اجلاس میں ای پروکیورمنٹ سسٹم کے نفاذ کے لیے گلگت بلتستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور وفاقی PPRA کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی گئی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر استور میں ریسکیو 1122، محکمہ صنعت و تجارت کے ضلعی افسر کے قیام کے لیے رہائشی و ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے قیام اور بلائنڈ لیک شگر میں محکمہ فشریز کے لیے زمین کی منتقلی منظور کی گئی۔ ڈیٹا شیئرنگ اور ٹیکس پیڈ کلیمز کے لیے حکومت گلگت بلتستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور تاجروں کی بایومیٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے ساتھ MoU پر دستخط کی منظوری دی گئی۔

رجسٹریشن و صنعتی تعلقات دیگر صوبوں کی طرز پر رجسٹرار آف فرمز کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز سے محکمہ صنعت و تجارت کو منتقل کرنے اور صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء کے تحت رجسٹرار ٹریڈ یونین کی تقرری کی بھی منظوری دیدی گئی۔ محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف و ماحولیات اور WCDS کے درمیان MoU پر دستخط کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر نگراں وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح گلگت بلتستان کے تمام مفاد عامہ کے منصوبوں کو بروقت اور شفاف طریقے سے مکمل کرنا ہے، حکومت توانائی انفراسٹرکچر اور عوامی سہولتوں کے شعبوں میں مؤثر اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ ہر شہری کی زندگی بہتر بنائی جا سکے، ہم ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معیار دونوں کو یقینی بنائیں گے اور ہر فیصلہ عوامی مفاد کے مطابق ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پوری طرح کوشاں ہے۔ عوام کی سہولت، ملازمت کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں ڈیزل جنریٹر چلانے کابینہ اجلاس گلگت بلتستان کی منظوری دی کروڑ روپے کابینہ نے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ العمل ہوں گی اور 23 جولائی تک برقرار رہیں گی۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن