پاک چین تجارت، گلگت بلتستان کے تاجروں کیلئے ٹیکس چھوٹ کے سلسلے میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
حکومتِ گلگت بلتستان نے وزیر اعظم پاکستان کے احکامات کی روشنی میں خنجراب بارڈر سے درآمد ہونے والے سامان پر کل 4 ارب روپے تک فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیکس ایگزمپشن سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے آن لائن پورٹل تیار کر لیا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومتِ گلگت بلتستان نے وزیر اعظم پاکستان کے احکامات کی روشنی میں خنجراب بارڈر سے درآمد ہونے والے سامان پر کل 4 ارب روپے تک فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیکس ایگزمپشن سرٹیفکیٹس کے اجراء کے لیے آن لائن پورٹل تیار کر لیا۔ محکمہ اطلاعات سے جاری بیان کے مطابق جدید آن لائن پورٹل بدھ 11 فروری سے فعال کیا جائے گا، جہاں پر سرٹیفیکیٹس کے لیے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ یہ اقدام مقامی رہائشیوں کی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور شفافیت کو یقینی بنائے گا، جس سے صرف مستحق ٹریڈرز ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حکومتِ گلگت بلتستان نے وزیر اعظم پاکستان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے خنجراب بارڈر پر پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے ذریعے مقامی رہائشیوں کی جانب سے درآمد کیے جانے والے سامان پر کل 4 ارب روپے تک کے فیڈرل ٹیکسز سے استثنیٰ کا اعلان کیا ہے، مستحق ٹریڈرز اور امپورٹرز کو رجسٹریشن کے بعد متعین چھوٹ کے سلیبز کے مطابق سرٹیفکیٹس جاری کرے گا۔
سرٹیفکیٹس "پہلے آئیں، پہلے پائیں" کے اصول پر، مقررہ جانچ پڑتال اور اہلیت کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد جاری ہوں گے۔ یہ اقدام مقامی تجارت کو فروغ دینے، شفافیت برقرار رکھنے اور سہولت کو صرف جائز گلگت بلتستان رہائشیوں تک محدود کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس سے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور خواتین و نوجوانوں کے لیے مختص کوٹہ کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ درخواست صرف ان ٹریڈرز اور امپورٹرز سے قبول کی جائے گی جو گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی ہوں، متعلقہ چیمبر آف کامرس سے رجسٹرڈ ہوں اور SECP سے رجسٹرڈ کمپنی ہوں یا فارم "سی" کے تحت رجسٹرڈ ہوں۔ ہر درخواست کی جانچ ایک خودکار نظام سے ہو گی جو نادرا سے تصدیق، ایس ای سی پی یا فارم "سی" رجسٹریشن کی جانچ، چیمبر آف کامرس رجسٹریشن کی تصدیق، اور بینک اسٹیٹمنٹ کی توثیق کو یقینی بنائے گا۔ اس طرح مستند رہائشیوں کو ہی فائدہ پہنچے گا اور میرٹ پر مبنی شفافیت برقرار رہے گی۔
بیان کے مطابق آن لائن پورٹل فعال ہونے کے بعد رجسٹریشن کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC)، SECP یا فارم "سی" رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ضروری دستاویزات سمیت)، گزشتہ ایک سال کا ڈیجیٹل سالانہ بینک اسٹیٹمنٹ، اور بینک منیجر کا تصدیقی خط تیار رکھیں۔ رجسٹریشن اور فیس ادا کرنے کے بعد، سالانہ بینک اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر سرٹیفکیٹ جاری ہو جائے گا۔ سرٹیفکیٹس کے اجراء کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں بڑے پیمانے کا کاروبار کرنے والے افراد، چھوٹے پیمانے کا کاروبار کرنے والے افراد، نوجوان اور خواتین کو شامل کیا گیا ہے جن کو بینک اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر سرٹیفکیٹس کا اجراء یقینی بنایا جائے گا۔ سرٹیفکیٹس کے اجراء میں اضلاع کی آبادی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بینک اسٹیٹمنٹ آن لائن پورٹل گلگت بلتستان جائے گا کے لیے کے بعد
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔