Express News:
2026-06-02@22:14:23 GMT

سیاست

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

اے این پی کے سینئر رہنما الحاج غلام احمد بلور پشاور میں اپنی چالیس سالہ سیاست کے بعد پشاور چھوڑکر اپنے آبائی علاقے میں منتقل ہو گئے جہاں وہ اپنی باقی عمر، اپنی فیملی کے ساتھ گزاریں گے۔

وہ سیاست سے تو 87 سالہ عمر میں بھی تعلق برقرار رکھیں گے مگر آیندہ الیکشن نہیں لڑیں گے کیونکہ انھیں دکھ ہے کہ 85 سال کی عمر میں انھوں نے اے این پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا جس میں ان کے پی ٹی آئی امیدوار سے 6 ہزار ووٹ زیادہ تھے مگر بالاتروں نے انھیں ہروا دیا اور ان کی عمر کا بھی خیال نہیں کیا۔ غلام احمد بلور نے 2018 میں بانی پی ٹی آئی کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو غیر متوقع طور پر ہرایا تھا مگر اس بار پی ٹی آئی جن قوتوں پر سندھ و پنجاب میں اسے ہروانے کا الزام دیتی ہے غلام احمد بلور کے مطابق انھی قوتوں نے مجھے ہروا کر پی ٹی آئی کو شاید اس لیے کامیاب کرایا کہ میں اسمبلی میں ہمیشہ حق کے لیے بولتا رہا ہوں۔

87 سالہ غلام احمد بلور سیاست سے ریٹائر نہیں ہوئے اور ان کا موقف ہے کہ سیاستدان کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا اور مرنے تک لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں مگر ساٹھ سال بعد اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کوئی انھیں نہیں پوچھتا اور سیاستدانوں کو ان کی سیاسی خدمات کے باعث یاد رکھا جاتا ہے، اس لیے سیاست صرف سیاستدانوں کو کرنی چاہیے بالاتری سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

2018 میں خفیہ قوتوں کی پشت پناہی سے اقتدار میں آنے والے بانی پی ٹی آئی نے پنجاب میں ایک ایسے غیر معروف عثمان بزدار، جیسے نئے چہرے کو غیر متوقع طور پر پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا ، اسے ایک مبینہ روحانی خاتون کی حمایت حاصل تھی جس کی کارکردگی چند دنوں میں ہی ظاہر ہو گئی تھی جسے پتا ہی نہیں تھا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ہے اسے تو اس کے علاقے کی ایک خاتون نے یاد دلایا تھا کہ اب وہ ناظم نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہے۔ یہ کمزور وزیر اعلیٰ رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ حکومتی سربراہ وہ تھا مگر پنجاب کی حکومت کہیں اور سے چلائی جاتی تھی۔ چند ماہ بعد ہی وزیر اعظم کو اس وزیر اعلیٰ کی جگہ کوئی اہل وزیر اعلیٰ لانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر وزیر اعظم نے یہ مشورہ نہیں مانا تھا بلکہ پنجاب کا بیڑا غرق کرا لیا تھا اور وزیر اعلیٰ تبدیل نہیں ہوا تھا ۔

غلام احمد بلور کو 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر ریلوے بنایا گیا تھا کیونکہ اے این پی پیپلز پارٹی کی اتحادی تھی اور غلام احمد بلور کی وزارت میں پاکستان ریلوے تباہ ہو کر رہ گئی تھی اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار نے بڑا فروغ پایا تھا۔ وزیر ریلوے کی کارکردگی سے ریلوے کی تباہی کی شکایات پر پی پی حکومت کو اپنی پارٹی کی طرف سے وزیر ریلوے کا محکمہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر غلام احمد بلور دوسری وزارت لینے پر آمادہ نہ تھے ان کی ضد کی وجہ سے حکومت مجبور تھی۔

بلور کی وزارت ریلوے کے دوران ریلوے کی جو تباہی ہوئی وہ ایک ریکارڈ ہے مگر پی پی حکومت نے ملک بھر میں ریلوے کی مکمل تباہی برداشت کر لی تھی مگر اے این پی کی ناراضگی مول لینا گوارا نہیں کیا تھا اور غلام احمد بلور کی پانچ سالہ مدت میں ریلوے کی مکمل تباہی کے بعد ہی ریلوے کو (ن) لیگ کی حکومت آنے کے بعد 2013 میں خواجہ سعد رفیق جیسا وزیر ریلوے ملا جس نے اپنی دن رات کی محنت سے ریلوے کو سنبھالا اس پر عوام کا اعتماد بحال کیا کیونکہ لوگوں نے ریلوے سفر ہی ترک کر دیا تھا جو بلور صاحب کی کارکردگی سے تباہی کا شکار ہوئی جسے بعد میں شیخ رشید نے بہتر بنایا اور اب (ن) لیگی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی سربراہی میں نقصان سے نکل کر منافع کمانے کے قابل ہو چکی ہے اور غلام احمد بلور کے دور کو ریلوے کا سب سے خراب دور قرار دیا جاتا ہے۔

غلام احمد بلور کا اب یہ کہنا کہ سیاست سیاستدانوں ہی کو کرنی چاہیے بالکل درست ہے مگر سیاستدانوں میں اتنی اہلیت بھی تو ہونی چاہیے کہ انھیں جو ذمے داری ملے اسے نبھائیں۔ ان میں اگرکام کی صلاحیت نہیں ہوگی تو وہی ہوگا جو عثمان بزدارکی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کا اور غلام احمد بلور کی وزارت میں پاکستان ریلوے کا ہوا تھا۔

موجودہ (ن) لیگی حکومت میں غیر سیاسی وزیر خزانہ کی وجہ سے ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ سیاستدان ہی قابل ترین ہوں اور اپنی ضد و نااہلی اور غیر دانش مندی سے ملک تباہ کرنے لگیں تو ملک کی حفاظت کے ذمے داروں کو بالاتری سیاست کرنا ہی پڑتی ہے جسے ہائبرڈ نظام کہا جائے یا سیاست میں مداخلت مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر پی پی اور پی ٹی آئی کے وزیر اعظم درست فیصلہ کرتے تو پنجاب کو بزدار اور ریلوے کو بلور نہ ملتے جنھوں نے آ کر تباہی پھیلائی۔ (ن) لیگ اور پی پی نے تو بالاتری سیاست قبول کر لی ہے جس سے ملک کی حالت میں بہتری بھی آ رہی ہے اور یہ حکومت بھی مان رہی ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور غلام احمد بلور وزیر ریلوے وزیر اعلی اے این پی پی ٹی آئی کی وزارت ریلوے کی بلور کی گیا تھا تھا مگر کے بعد

پڑھیں:

بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی

 سٹی 42:وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا بانی پی ٹی آئی نے جیل سے وزیر اعلی کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا،بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی۔جب تک اڈیالہ جیل سے پیغام نہیں آتا میں ہی وزیر اعلی رہوں گا،کے پی کے کی حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی ختم نہیں کرسکتا 

وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا بانی پی ٹی آئی نے جیل سے وزیر اعلی کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا،بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی۔جب تک اڈیالہ جیل سے پیغام نہیں آتا میں ہی وزیر اعلی رہوں گا،کے پی کے کی حکومت کو بانی پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی ختم نہیں کرسکتا ۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 انہوں نے کہا ہمارے تمام ایم پی ایز تحریک انصاف کے جھنڈے تلے متحد ہیں،آنے والے بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا ۔ستانوے ہزار ارب روپے تک پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے پہنچ چکے ہیں ۔ٹیکس وصولی کے حدف سے کم ٹیکس وصول ہوا ہے ۔پہلے 5 کو بجٹ پیش کرنا تھا اب 10 کو پیش کریں گے ۔کچھ لے دے کر یہ لوگ بجٹ کو پاس کر دے گے۔بجٹ کا سارا بوجھ عوام پر پڑنے والا ہے ۔تمام صحافیوں،  سوشل میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے آپ نے اس مہینے صرف بجٹ پر بات کرنی ہے 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

آپ نے دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان کے قرضے ستانوے ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں ۔ہمارا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔ہمارا کاروباری طبقہ انڈسٹری بند کر کے اپنی انویسٹمنٹ باہر لے کر جاریا ہے ۔ہمارا کسان ایگریکلچر میں تباہ حال ہیں ۔مہنگائی دن بدن بڑھتی جارہی ہے پیٹرول کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ان کے پاس نہ کوئی فارن پالیسی ہے نہ کوئی اکنامک نہ کوئی انٹیریر پالیسی ہے ۔کے پی کے حکومت نے اپنی کابینہ سے متوازن بجٹ پاس کروالیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ہم نے عوام دوست بجٹ دینا ہے جو عوام کا حق ہے ۔بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق ہمارا فوکس صحت،  تعلیم،  یوتھ ،  زراعت اور فارسٹ پر ہے ۔اس بجٹ میں مینارٹی کے لیے بہت کچھ لے کر آرہے ہیں ۔وفاقی بجٹ کا اثر کے پی کے سمیت پورے پاکستان پر پڑے گا۔بانی پی ٹی آئی کو غیر آئینی طریقے سے ائسولیٹ کیا ہوا ہے ۔ہمارا یہاں آنے کا مقصد ایک ہی ہے کہ بانی کو الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ۔ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹر کی موجودگی میں ان کا علاج کیا جائے ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

بانی کی فیملی کو ملاقات نہیں کرنے دیں رہے اس کا مطلب یہ کچھ کرنا چارہے ہے ۔اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ بانی کا بہترین علاج کررہے ہیں تو فیملی کو کیوں ملنے نہیں دے رہے ۔ہم پچھلی بار ملنے آئے تو انہوں نے کشمیر ہائی وے پر روکا اور 11 گھنٹے تک عوام کو اذیت میں ڈالا ۔فیملی تو غیر سیاسی ہے مل کر بتا دیں گی کہ بانی کی طبیعت کیسی ہے، 

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی  نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے اسے ٹوک دیا۔علیمہ خان  نے سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہہ  کرتے ہوئے کہا آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں ۔ ان سے کہیں پہلے میری ملاقات کرائیں ۔ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ ڈسکس کرو 

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم