اے این پی کے سینئر رہنما الحاج غلام احمد بلور پشاور میں اپنی چالیس سالہ سیاست کے بعد پشاور چھوڑکر اپنے آبائی علاقے میں منتقل ہو گئے جہاں وہ اپنی باقی عمر، اپنی فیملی کے ساتھ گزاریں گے۔
وہ سیاست سے تو 87 سالہ عمر میں بھی تعلق برقرار رکھیں گے مگر آیندہ الیکشن نہیں لڑیں گے کیونکہ انھیں دکھ ہے کہ 85 سال کی عمر میں انھوں نے اے این پی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا جس میں ان کے پی ٹی آئی امیدوار سے 6 ہزار ووٹ زیادہ تھے مگر بالاتروں نے انھیں ہروا دیا اور ان کی عمر کا بھی خیال نہیں کیا۔ غلام احمد بلور نے 2018 میں بانی پی ٹی آئی کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو غیر متوقع طور پر ہرایا تھا مگر اس بار پی ٹی آئی جن قوتوں پر سندھ و پنجاب میں اسے ہروانے کا الزام دیتی ہے غلام احمد بلور کے مطابق انھی قوتوں نے مجھے ہروا کر پی ٹی آئی کو شاید اس لیے کامیاب کرایا کہ میں اسمبلی میں ہمیشہ حق کے لیے بولتا رہا ہوں۔
87 سالہ غلام احمد بلور سیاست سے ریٹائر نہیں ہوئے اور ان کا موقف ہے کہ سیاستدان کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا اور مرنے تک لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں مگر ساٹھ سال بعد اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کوئی انھیں نہیں پوچھتا اور سیاستدانوں کو ان کی سیاسی خدمات کے باعث یاد رکھا جاتا ہے، اس لیے سیاست صرف سیاستدانوں کو کرنی چاہیے بالاتری سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
2018 میں خفیہ قوتوں کی پشت پناہی سے اقتدار میں آنے والے بانی پی ٹی آئی نے پنجاب میں ایک ایسے غیر معروف عثمان بزدار، جیسے نئے چہرے کو غیر متوقع طور پر پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا ، اسے ایک مبینہ روحانی خاتون کی حمایت حاصل تھی جس کی کارکردگی چند دنوں میں ہی ظاہر ہو گئی تھی جسے پتا ہی نہیں تھا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ ہے اسے تو اس کے علاقے کی ایک خاتون نے یاد دلایا تھا کہ اب وہ ناظم نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہے۔ یہ کمزور وزیر اعلیٰ رکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ حکومتی سربراہ وہ تھا مگر پنجاب کی حکومت کہیں اور سے چلائی جاتی تھی۔ چند ماہ بعد ہی وزیر اعظم کو اس وزیر اعلیٰ کی جگہ کوئی اہل وزیر اعلیٰ لانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر وزیر اعظم نے یہ مشورہ نہیں مانا تھا بلکہ پنجاب کا بیڑا غرق کرا لیا تھا اور وزیر اعلیٰ تبدیل نہیں ہوا تھا ۔
غلام احمد بلور کو 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر ریلوے بنایا گیا تھا کیونکہ اے این پی پیپلز پارٹی کی اتحادی تھی اور غلام احمد بلور کی وزارت میں پاکستان ریلوے تباہ ہو کر رہ گئی تھی اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار نے بڑا فروغ پایا تھا۔ وزیر ریلوے کی کارکردگی سے ریلوے کی تباہی کی شکایات پر پی پی حکومت کو اپنی پارٹی کی طرف سے وزیر ریلوے کا محکمہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر غلام احمد بلور دوسری وزارت لینے پر آمادہ نہ تھے ان کی ضد کی وجہ سے حکومت مجبور تھی۔
بلور کی وزارت ریلوے کے دوران ریلوے کی جو تباہی ہوئی وہ ایک ریکارڈ ہے مگر پی پی حکومت نے ملک بھر میں ریلوے کی مکمل تباہی برداشت کر لی تھی مگر اے این پی کی ناراضگی مول لینا گوارا نہیں کیا تھا اور غلام احمد بلور کی پانچ سالہ مدت میں ریلوے کی مکمل تباہی کے بعد ہی ریلوے کو (ن) لیگ کی حکومت آنے کے بعد 2013 میں خواجہ سعد رفیق جیسا وزیر ریلوے ملا جس نے اپنی دن رات کی محنت سے ریلوے کو سنبھالا اس پر عوام کا اعتماد بحال کیا کیونکہ لوگوں نے ریلوے سفر ہی ترک کر دیا تھا جو بلور صاحب کی کارکردگی سے تباہی کا شکار ہوئی جسے بعد میں شیخ رشید نے بہتر بنایا اور اب (ن) لیگی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی سربراہی میں نقصان سے نکل کر منافع کمانے کے قابل ہو چکی ہے اور غلام احمد بلور کے دور کو ریلوے کا سب سے خراب دور قرار دیا جاتا ہے۔
غلام احمد بلور کا اب یہ کہنا کہ سیاست سیاستدانوں ہی کو کرنی چاہیے بالکل درست ہے مگر سیاستدانوں میں اتنی اہلیت بھی تو ہونی چاہیے کہ انھیں جو ذمے داری ملے اسے نبھائیں۔ ان میں اگرکام کی صلاحیت نہیں ہوگی تو وہی ہوگا جو عثمان بزدارکی وزارت اعلیٰ میں پنجاب کا اور غلام احمد بلور کی وزارت میں پاکستان ریلوے کا ہوا تھا۔
موجودہ (ن) لیگی حکومت میں غیر سیاسی وزیر خزانہ کی وجہ سے ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ سیاستدان ہی قابل ترین ہوں اور اپنی ضد و نااہلی اور غیر دانش مندی سے ملک تباہ کرنے لگیں تو ملک کی حفاظت کے ذمے داروں کو بالاتری سیاست کرنا ہی پڑتی ہے جسے ہائبرڈ نظام کہا جائے یا سیاست میں مداخلت مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر پی پی اور پی ٹی آئی کے وزیر اعظم درست فیصلہ کرتے تو پنجاب کو بزدار اور ریلوے کو بلور نہ ملتے جنھوں نے آ کر تباہی پھیلائی۔ (ن) لیگ اور پی پی نے تو بالاتری سیاست قبول کر لی ہے جس سے ملک کی حالت میں بہتری بھی آ رہی ہے اور یہ حکومت بھی مان رہی ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور غلام احمد بلور وزیر ریلوے وزیر اعلی اے این پی پی ٹی آئی کی وزارت ریلوے کی بلور کی گیا تھا تھا مگر کے بعد
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم