گداگری منظم کاروبار بن چکا، ملک میں سب سے زیادہ روزگار اسی شعبے میں ہے، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں گداگری اب محض غربت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور گھناؤنا کاروبار بن چکی ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ نام نہاد ’’روزگار‘‘ فراہم کر رہا ہے، بھیک مانگنے کے عمل کے پیچھے باقاعدہ ٹھیکیدار اور مافیا سرگرم ہیں جو اس غیر انسانی دھندے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اب بھیک منگوانے کے لیے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو بچوں، خواتین اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کرتے ہیں، یہ عناصر انسانی ہمدردی کے جذبات سے کھیلتے ہوئے منظم طریقے سے لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں اور اس کاروبار سے خطیر رقم کمائی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہی مافیا ان بھیک منگوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، خلیجی ممالک ان حالات سے تنگ آ کر پاکستانی شہریوں کے ویزے بند یا محدود کر رہے ہیں، جس کا خمیازہ عام اور محنت کش پاکستانیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ایئرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ بھی مبینہ طور پر شریک ہے جو بھیک منگوں کی بیرونِ ملک ترسیل میں سہولت کاری کر کے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے، یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سیالکوٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہاں زیادہ تر بھکاری جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور منظم انداز میں گداگری کا دھندہ چلاتے ہیں، بظاہر خوشحال اور اچھے کھاتے پیتے لوگ ان بھکاریوں کے اصل ٹھیکیدار ہیں اور جب انتظامیہ گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی ہے تو یہی ٹھیکیدار سفارشیں لے کر سامنے آ جاتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں کے باعث اس گھناونے کاروبار میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے، اس کے باوجود سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر بھکاریوں کی موجودگی اب بھی دیکھی جا سکتی ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کاروبار کسی بھی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر پنپ نہیں سکتا، گداگری کے اس نیٹ ورک کے ساتھ دیگر نہایت سنگین اور غیر اخلاقی جرائم بھی جڑے ہوئے ہیں، جن میں انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے استحصال جیسے جرائم شامل ہو سکتے ہیں۔
آخر میں وزیر دفاع نے زور دیا کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے صرف وقتی کریک ڈاؤن کافی نہیں بلکہ مربوط حکمتِ عملی، سخت قانون سازی اور ادارہ جاتی احتساب ناگزیر ہے تاکہ اس منظم مافیا کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے نے کہا رہا ہے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔