data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں گداگری اب محض غربت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک منظم اور گھناؤنا کاروبار بن چکی ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ نام نہاد ’’روزگار‘‘ فراہم کر رہا ہے، بھیک مانگنے کے عمل کے پیچھے باقاعدہ ٹھیکیدار اور مافیا سرگرم ہیں جو اس غیر انسانی دھندے سے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اب بھیک منگوانے کے لیے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو بچوں، خواتین اور جعلی معذور افراد کو بھرتی کرتے ہیں، یہ عناصر انسانی ہمدردی کے جذبات سے کھیلتے ہوئے منظم طریقے سے لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں اور اس کاروبار سے خطیر رقم کمائی جا رہی ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہی مافیا ان بھیک منگوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، خلیجی ممالک ان حالات سے تنگ آ کر پاکستانی شہریوں کے ویزے بند یا محدود کر رہے ہیں، جس کا خمیازہ عام اور محنت کش پاکستانیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ایئرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ بھی مبینہ طور پر شریک ہے جو بھیک منگوں کی بیرونِ ملک ترسیل میں سہولت کاری کر کے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے، یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

سیالکوٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہاں زیادہ تر بھکاری جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور منظم انداز میں گداگری کا دھندہ چلاتے ہیں، بظاہر خوشحال اور اچھے کھاتے پیتے لوگ ان بھکاریوں کے اصل ٹھیکیدار ہیں اور جب انتظامیہ گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی ہے تو یہی ٹھیکیدار سفارشیں لے کر سامنے آ جاتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں کے باعث اس گھناونے کاروبار میں کچھ حد تک کمی ضرور آئی ہے، اس کے باوجود سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر بھکاریوں کی موجودگی اب بھی دیکھی جا سکتی ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کاروبار کسی بھی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر پنپ نہیں سکتا، گداگری کے اس نیٹ ورک کے ساتھ دیگر نہایت سنگین اور غیر اخلاقی جرائم بھی جڑے ہوئے ہیں، جن میں انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے استحصال جیسے جرائم شامل ہو سکتے ہیں۔

آخر میں وزیر دفاع نے زور دیا کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے صرف وقتی کریک ڈاؤن کافی نہیں بلکہ مربوط حکمتِ عملی، سخت قانون سازی اور ادارہ جاتی احتساب ناگزیر ہے تاکہ اس منظم مافیا کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے نے کہا رہا ہے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ