data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260210-01-24
تل ابیب /غزہ /دوحا /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیلی کنٹرول مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے اور یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے کئی اہم اقدامات کی منظوری دیدی۔ ان فیصلوں کا مقصد فلسطینی علاقوں میں دہائیوں سے نافذ قانونی اور شہری صورتحال کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خزانہ اور وزیرِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق درج ذیل اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں: مغربی کنارے میں یہودی شہریوں کے زمین خریدنے پر عاید دہائیوں پرانی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ فلسطینی شہروں میں تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی سے لے کر براہِ راست اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے‘ اب ان علاقوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف اسرائیلی منظوری کافی ہوگی‘ اسرائیل اب فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں واقع بعض مذہبی مقامات کا انتظام بھی خود سنبھالے گا۔وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد ’’فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ’’ اور اسرائیل کی جڑوں کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مغربی کنارے کو اسرائیل کا ’’دل’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں آباد کاروں کو تمام شہری سہولیات کی فراہمی قومی اور صہیونی مفاد میں ہے۔ فلسطینی حکام نے ان فیصلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مغربی کنارے کے الحاق کی کھلی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو سیاسی عمل کے لیے براہ راست خطرہ اور ساز گار حالات پیدا کرنے میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے غزہ میں جنگ بندی کو بے معنی کردیا‘ ثالثوں کی امن کوششیں اسرائیل کی جانب سے نظر انداز کی جا چکی ہیں‘ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حماس نے بیان میں مزید کہا کہ امریکا اور دیگر ثالث ممالک اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکیں۔ اسرائیلی فوج نے مسلسل 121 ویں روز بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران مختلف علاقوں میں بمباری، گولا باری اور بحری جہازوں سے فائرنگ کی گئی۔غزہ شہر میں قابض افواج نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون میں اپنی موجودگی کے دوران متعدد عمارتوں کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا، اس کے ساتھ ہی محلے پر توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی، جبکہ شہر کے مشرقی حصوں میں بارود سے بھرے روبوٹس کے ذریعے مزید متعدد عمارتوں کو منہدم کردیا گیا۔ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے۔اسیران میڈیا آفس نے عبرانی چینل13 کی اس رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی جیل خانہ جات کی انتظامیہ نے فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت کے قانون کی پہلی ووٹنگ میں منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ایک مخصوص کمپلیکس کی تعمیر، آپریشنل طریقہ کار کی تشکیل، افرادی قوت کی تربیت اور دیگر ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے جیسی باتوںکو عبرانی چینل کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔یورپی یونین نے مغربی کنارے پر کنٹرول کے مزید اسرائیلی اقدامات کو غلط سمت میں ایک اور قدم قرار دے دیا۔ مغربی کنارے پر اپنے کنٹرول کو بڑھانے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں مزید غیر قانونی بستیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسرائیل کے نئے اقدامات پر مسلمان ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپی یونین مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلوں کی مذمت کرتی ہے یہ اقدام غلط سمت میں ایک اور قدم ہے۔ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکی نے مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول سخت کرنے اور مزید بستیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی فیصلوں اور غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری کو مسلط کرنے کے اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے چار مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ پیر کے روز جنوبی غزہ میں ایک سرنگ سے نکلنے کے بعد مسلح افراد نے فوجیوں پر حملہ کر دیا۔ فوج نے گروپ کی کارروائیوں کو جنگ بندی کی “سخت خلاف ورزی” قرار دیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خلاف ورزیوں یورپی یونین جنگ بندی کی علاقوں میں اسرائیل کی کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم