data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑھتی ہوئی بھارتی دہشت گردی اور ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے کے لیے پے درپے اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرتے ہوئے بھارت کے خلاف بین الاقوامی سفارتی صف بندی کی جائے اور پاکستان کی بطور غیر مستقل ممبر سلامتی کونسل نشست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلامتی کونسل میں مسئلے کو زیربحث لانے کاخصوصی اہتمام بھی کیا جائے۔مجلس شوریٰ نے کسان بورڈ پاکستان کی جانب سے کسانوں اور زراعت کی بہتری کے لیے مطالبات اور نئے بجٹ کے لیے تجاویز کی بھی متفقہ قرارد اد کی صورت میں منظوری دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی مجلس شوریٰ کے منصورہ میں جاری اجلاس کے دوسرے روز مسئلہ کشمیر پر متفقہ قرارداد میں شدید تشویش کااظہار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر جامع رپورٹس کے باوجود بھارتی قابض افواج نے کالے قوانین کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیاہے۔جماعت اسلامی اور دیگر حریت پسند تنظیموں سے وابستہ افراد کے گھر گرائے جا رہے ہیں۔محمد یاسین ملک،شبیر احمدشاہ،ڈاکٹر عبدالحمید فیاض،مسرت عالم،آسیہ اندرابی اور ان کے ہمراہ دیگر درجنوں خواتین صف اول کی حریت پسند قیادت پر دہلی کی تہاڑ جیل میں بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔ اردوزبان جومہاراجا کے دور سے ریاستی اور سرکاری زبان چلی آ رہی ہے،کو دیس نکالا دے کر ہندی کو بالجبر نافذ کیاجارہا ہے۔تمام ریاستی ادارے ختم کرتے ہوئے انتظامی اہلکاران کا دہلی سے براہ راست تقرر ہو ر ہا ہے، تاریخی مساجد کومندر ثابت کرکے گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجلس شوریٰ نے بھارتی اقدامات کی مذمت کی ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معرکہ حق کے بعد اللہ کی تائید ونصرت سے پاکستان کو جو بھارت پر بالادستی ملی جس کے نتیجے میں ملک کاوقار بلندہوا،اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کشمیریوں کا حق مزاحمت بحال کرتے ہوئے مجاہدین کی بھرپور مدد کرے۔ بھارتی مسلمانوں،سکھوں،دلتوں،عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے پس منظر میں آرایس ایس کے انسانیت اورمسلم دشمن ایجنڈے کو بے نقاب کیاجائے۔ریاست کے آزاد خطوں آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کے ذریعے با اختیار اور باوسائل نظام دیا جائے جومثالی کارکردگی کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی بیس کیمپ کا کردار ادا کرسکے۔مزیدبرآں زراعت اور کسانوں کو درپیش مسائل پر متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2025 بھی کسانوں کے لیے معاشی طور پر مشکل ترین رہا۔ زرعی اعداد و شمار کے مطابق زرعی معاشی ترقی 0.

5 فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ 2026 میں حکومت کو غذائی تحفظ کے نام پر ایک کثیر رقم خرچ کرنا پڑے گی۔گندم تقریبا 9فیصد کم پیدا ہوئی کپاس پیدا واری ہدف سے 31 فیصد کم ہوئی۔ کسان بورڈ پاکستان نے گندم کی قیمت کے حوالے عدالت کے دروازے پر دستک دی تو پھر گندم کی قیمت 3500 روپے من مقرر ہوئی جبکہ 4100 روپے فی من اخراجات ہیں۔ قرارد دار میں کہا گیا ہے کہ پیداواری لاگت ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہے،کھادوں کی قیمتوں میں 200 تا 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،ڈیزل 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے، بیج، زرعی ادویات اور بجلی کسان کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔فصلوں کی مناسب اور منصفانہ قیمت میسر نہیں۔ گندم، کپاس، چاول، مکئی اور سبزیوں کی فروخت پیداواری لاگت سے کم ہو رہی ہے، امدادی قیمت کا اعلان یا تو بروقت نہیں ہوتا یا اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔پانی کا شدید بحران زراعت کو نگل رہا ہے۔ مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی مداخل کو سستا کیا جائے۔نئے بجٹ میں ڈیزل،پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، بجلی اور ڈیزل پر فوری سبسڈی دی جائے۔تمام اہم فصلوں کی پیداواری لاگت کی بنیاد پر امدادی قیمت مقرر کر کے اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ نہری نظام کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔چھوٹے اور متوسط کسان کے لیے بلاسود یا کم سود زرعی قرض کا شفاف نظام نافذ کیا جائے۔ قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کے لیے زرعی انشورنس اسکیم فوری طور پر نافذ کی جائے۔زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، اور کسان تربیت کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔آڑھتی مافیا، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کیا جائے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی

—فائل فوٹو

پنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔

ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے  12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔

محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔

پنجاب: غیر قانونی اسلحے کے خاتمے کیلیے نئے قانون کا مسودہ تیار

پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

محکمۂ قانون کا  کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔

محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔   

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی