خضدار میں نامعلوم افراد کا حملہ‘ ہندو تاجر سمیت 3 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خضدار (صباح نیوز)خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک ہندو تاجر سمیت 3 افراد ہلاک اور2 زخمی ہو گئے ہیں۔ خضدار پولیس کے ایک اہلکار وہاب بلوچ نے بتایا کہ ان افراد کو خضدار کے علاقے نال میں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اہلکار کے مطابق ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے ہے جو کہ پکنک کی غرض سے نال میں ہڑنبو ڈیم کے علاقے میں گئے تھے۔جہاں نامعلوم مسلح افراد آ نے ان پر فائرنگ کردی۔پولیس اہلکار کے مطابق مارے جانے والے افراد میں ایک ہندو تاجر بھی شامل ہے، جن کی شناخت ملّومل کے نام سے ہوئی ہے۔ دوسرے2 افراد کی شناخت عبدالرشید اور عبدالصبور کے ناموں سے ہوئی ہے۔ وہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان افراد پر حملے کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے اور اس سلسلے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ان افراد پر حملے کے خلاف وڈھ میں ان کے لواحقین اور دیگر افراد نے کوئٹہ اور کراچی کے درمیان شاہراہ کو بطور احتجاج بند کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔