محمد فاروق کا سندھ اسمبلی میں بلا جواز گرفتاریوں کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سندھ اسمبلی اجلاس میں اتوار 8فروری کو الیکشن کمیشن آفس سندھ کے سامنے عوامی پریس کانفرنس کرنے سے روکنے ، اپنی ،قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز سمیت دیگر رہنمائوں و کارکنوں کی بلاجوازگرفتاری و حکومتی دہشت گردی پر دوران اجلاس اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا ۔اس دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کو عام انتخابات میں بدترین دھاندلی کے2 سال مکمل ہونے اور فارم47والی حکومت مسلط کرنے کے خلاف جماعت اسلامی کی پرامن عوامی پریس کانفرنس پر پولیس گردی وزیر داخلہ کے احکامات پر ہوئی اور فسطائیت کا بدترین مظاہرہ کیا گیا۔وزیر داخلہ جواب دیں کس قانون کے تحت ایسا کیا؟۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ دینا پیپلز پارٹی کی بدترین آمریت ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں اسمبلی میں بات کرنے کی اجازت ہے نہ باہر، ہم گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں، اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق ، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لیے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا ہر صورت ہوگا۔ جس نے گرفتاریاں کرنی ہے، ریاستی دہشت گردی کرنی ہے وہ کرے ہم بھی اس شہر میں ہیں ان کو دیکھ لیں گے۔بعد ازاں میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد فاروق نے کہا کہ 8فروری کو پی ٹی آئی نے بھی پُر امن ہڑتال کی کال دی تھی اس کو سبوتاژ کرنے کے لیے ان کے رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، گزشتہ 10 روز سے ان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری تھا، میں مطالبہ کرتا ہوںپی ٹی آئی کے300سے زاید گرفتار کیے گئے رہنمائوں اور کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔ محمد فاروق نے کہا کہ پی ٹے آئی کے ایم پی اے واجد حسین کو گزشتہ شب گرفتار کرکے ان کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا یہ کھلی ریاستی دہشت گردی ہے اس کا جواب حکومت سندھ کو دینا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی محمد فاروق
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔