جنازے کیوں اٹھے اور تقسیم کیوں ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: یہ باتیں مجھے نہیں قیادت کو کہنی چاہیئے تھیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قیادت سے کہا جائے "ہر کوئی ذمہ دار ہے اور کوئی ذمہ دار نہیں"۔ اگر قائدین سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکومت سے کوئی توقع نہیں یا ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے کہ حکومت سے مدد لیں تو ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو کمانے والوں کی غیر موجودگی میں خاندانوں کی کفالت کرسکیں؟ میرے علم کے مطابق اکا دکا اداروں کے علاوہ کوئی ایسا نہیں جو مجبوروں اور کسم پرسی میں جینے والوں کا سہارا بنے۔ تحریر: سید اسد عباس
جس ریوڑ کے متعدد گڈریے ہوں، ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ زیادہ محفوظ اور منظم ہو، تاہم اس کثرت کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ ہوش مصنوعی کہتا ہے کہ اگر گڈریے زیادہ ہوں گے تو فیصلہ لینے میں تضاد ہوگا یعنی کمانڈ کا فقدان، ریوڑ پریشان رہے گا کہ کس کی آواز پر کان دھرے۔ ایسی صورتحال میں ذمہ داری کا فقدان بدیہی ہے۔ ہر کوئی ذمہ دار ہو تو کوئی بھی ذمہ دار نہیں رہتا، بھیڑیا کسی بھیڑ کو اٹھا لے تو دوسرے پر الزام تراشی ہوتی ہے کہ تمھیں نگرانی کرنی تھی۔ متفرق نعرے اور آوازیں جو ریوڑ میں افراتفری اور تناؤ کو جنم دیتی ہیں۔ گڈریوں کی باہمی چپقلش یا دوسرے پر ڈالنے کی عادت کا فائدہ اٹھا کر درندے آسانی سے ریوڑ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انسانوں کے ریوڑ نہیں ہوتے تاہم ان کو قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کسی بھی قوم یا قبیلے میں متعدد قائدین جنم لے لیں تو صورتحال تقریبا وہی ہوتی ہے جو مذکورہ بالا ریوڑ کی ہے۔ ایک کہتا ہے جنازے یہاں ہوں گے، دوسرا کہتا ہے جنازے یہاں ہوں گے۔ ایک کہتا ہے جنازوں پر احتجاج ہونا چاہیئے تاکہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے دوسرا کہتا ہے جنازوں پر سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ درندہ بھی اس تقسیم سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس کی جانب جا کھڑا ہوتا ہے جو خاموشی کی بات کر رہا ہو۔ اس منقسم قیادت سے منصوبہ ساز بھی بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اسے معلوم ہے کہ ان میں وہ وحدت نہیں ہےجس سے یہ اپنا تحفظ کر سکیں ۔ایسا گروہ دشمن کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن جاتا ہے۔
سانحہ ٹھیڑی سندھ اس وقت کا واقعہ ہے جب شیعان پاکستان کوئی قابل ذکر سیاسی قوت نہ تھے۔ یہ واقعہ 3 جون 1963ء کو سندھ (خیرپور) میں پیش آیا، جہاں یومِ عاشور کے موقع پر ایک پرتشدد واقعے میں درجنوں افراد شہید ہوئے۔ ساوتھ ایشیاء ٹیررزم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق 1989ء سے 2024ء تک مختلف واقعات میں چھے ہزار کے قریب شیعہ قتل ہوئے۔ بعض دیگر اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات پاڑاچنار، کوئٹہ، کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ان واقعات کے سبب سینکڑوں خاندان نقل مکانی کرکے پاکستان کے محفوظ علاقوں یا بیرون ملک جا بسے ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والوں میں لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان اور داعش شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے گذشتہ چند دہائیوں میں اگرچہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا ہے تاہم یہ تبدیلی ارتقائی ہے۔
اسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں افغان جہاد کے سبب یہ سب لشکر حکومت پاکستان کی گڈ بکس کا حصہ تھے، پھر رفتہ رفتہ جب ان گروہوں نے پاکستانی عوام اور ریاست کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو حکومت نے ان کے مراکز اور شخصیات کے خاتمے کا سلسلہ شروع کیا جو اب تک نامکمل ہے۔ اب تو شیعان پاکستان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کس جرم میں اور کیوں مارا گیا۔ شیعہ قتل و غارت کے جواز کے طور پر بعض حلقوں کی جانب سے توہین صحابہؓ کی دلیل پیش کی جاتی ہے، مگر اہل اسلام یہ دلیل پیش کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں ایک قانون موجود ہے اور اسلام کے قوانین بھی سزا کے لیے ایک نظام رکھتے ہیں۔ جرم کوئی کرے اور قتل کسی کو کیا جائے یہ انصاف اور اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ بات اکا دکا واقعات کی نہیں پاکستان میں منظم انداز سے گروہ، جماعتیں اور لشکر شیعہ قتال میں ملوث ہیں جو مدارس، اجتماعات اور جلسوں میں ذہن سازی کرتے ہیں اور ریاست میں امن و امان کو یقینی بنانے والے ادارے سب کچھ سن کر کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔
جہاں نیت خالص ہو وہاں اصلاح کا کام بنیاد سے کیا جاتا ہے، مدرسہ، نصاب، خطبہ، تقریر جو نفرت کو ہوا دے کو ابتداء سے ہی روکنا ضروری ہے۔ ایران نے بھی روس کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی اور لاکھوں مہاجرین کو ایران میں بسایا لیکن وہاں نہ دہشتگردی عام ہوئی نہ ہی لشکر بنے۔ پاکستان میں ان لشکروں کا قیام حکومتی نااہلی یا بدنیتی ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریاست پاکستان کے اداروں نے بلاوجہ پاکستان کے شیعوں کو ایک فاضل وجود سمجھ لیا ہے، جن کی تاریخ پاکستان کے قیام، استحکام اور سربلندی سے جڑی ہوئی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ قتل ہوتے رہے تاہم کبھی بھی مسئلہ کو بنیاد سے درست کرنے کی نوبت نہیں آئی، آج بھی ریاستی ادارے ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ واقعہ ہونے کے بعد کوئی وزیر یا مشیر جائے وقوعہ پر جاکر ہمدردی کے دو بول، بول دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ شیعہ قوم اس ظلم پر آواز بھی نہ بلند کریں۔ چند روز گزرنے کے بعد سب بھلا دیا جاتا ہے۔
پہلے پہل تو ہمدردی کے ساتھ متاثرین کے لیے کچھ مالی معاونت کے اعلانات کیے جاتے تھے جس کا سلسلہ اب روک دیا گیا ہے۔ کل بروز جمعہ اسلام آباد کے دیہی علاقے ترلائی کلاں میں ایک خودکش دھماکا ہوا جس میں متضاد اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری شہید ہوئے، متعدد زخمی ہیں مگر حکومت کی جانب سے اب تک متاثرین کے لیے زبانی تسلی کے علاوہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ میں آج زخمیوں کو دیکھ کر آیا ہوں جن میں سے اکثر غریب لوگ ہیں، حکومت کو ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیئے۔ مالی امداد اگرچہ ان کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی ہے تاہم اس سے کئی خاندانوں کا روزگار برقرار رہنے کا امکان ضرور ہے اور ایسا کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
یہ باتیں مجھے نہیں قیادت کو کہنی چاہیئے تھیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قیادت سے کہا جائے "ہر کوئی ذمہ دار ہے اور کوئی ذمہ دار نہیں"۔ اگر قائدین سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکومت سے کوئی توقع نہیں یا ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے کہ حکومت سے مدد لیں تو ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو کمانے والوں کی غیر موجودگی میں خاندانوں کی کفالت کرسکیں؟ میرے علم کے مطابق اکا دکا اداروں کے علاوہ کوئی ایسا نہیں جو مجبوروں اور کسم پرسی میں جینے والوں کا سہارا بنے۔
کسی دوسرے سے کوئی تقاضا کرنے سے قبل میں شیعہ قیادتوں سے کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کو واقعی قوم کا درد ہے تو قوم اور اس کے حقوق کے تحفظ کی ایک یکسو پالیسی مرتب کریں۔ تسلیوں اور ہمدردیوں کا کام تو حکومتی اراکین بھی آکر کرتے ہیں، جنازے تو وہ بھی پڑھ جاتے ہیں۔ آپ بھی اگر اسی پر قوم کو ٹرخا دیں گے تو ان میں اور آپ میں بھلا کیا فرق رہ جائے گا۔ جب تک آپ قومی سیکورٹی کی متفقہ اور مشترکہ پالیسی مرتب نہیں کرتے اس وقت تک دہشت گردی کے ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے، حکومت بھی اسی وقت آپ کی آواز پر کان دھرے گی جب آپ ایک مشترکہ موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ورنہ منقسم ریوڑ پر کوئی رحم نہیں کھاتا اور وہ ہمیشہ آسان ترین ہدف ہوتا ہے۔ عوام کو بھی ہلا ہلا کے بجائے دیکھنا چاہیئے کہ کون ان کے فائدے کی بات کر رہا ہے ان کا گروہی و پارٹی تعصب بھی خود ان کے لیے نقصان دہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوئی ذمہ دار پاکستان کے حکومت سے کے مطابق کہتا ہے ہیں کہ ہے اور ہیں جو کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین