Islam Times:
2026-07-24@01:58:39 GMT

جنازے کیوں اٹھے اور تقسیم کیوں ہوئے؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

جنازے کیوں اٹھے اور تقسیم کیوں ہوئے؟

اسلام ٹائمز: یہ باتیں مجھے نہیں قیادت کو کہنی چاہیئے تھیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قیادت سے کہا جائے "ہر کوئی ذمہ دار ہے اور کوئی ذمہ دار نہیں"۔ اگر قائدین سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکومت سے کوئی توقع نہیں یا ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے کہ حکومت سے مدد لیں تو ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو کمانے والوں کی غیر موجودگی میں خاندانوں کی کفالت کرسکیں؟ میرے علم کے مطابق اکا دکا اداروں کے علاوہ کوئی ایسا نہیں جو مجبوروں اور کسم پرسی میں جینے والوں کا سہارا بنے۔ تحریر: سید اسد عباس

جس ریوڑ کے متعدد گڈریے ہوں، ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ زیادہ محفوظ اور منظم ہو، تاہم اس کثرت کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ ہوش مصنوعی کہتا ہے کہ اگر گڈریے زیادہ ہوں گے تو فیصلہ لینے میں تضاد ہوگا یعنی کمانڈ کا فقدان، ریوڑ پریشان رہے گا کہ کس کی آواز پر کان دھرے۔ ایسی صورتحال میں ذمہ داری کا فقدان بدیہی ہے۔ ہر کوئی ذمہ دار ہو تو کوئی بھی ذمہ دار نہیں رہتا، بھیڑیا کسی بھیڑ کو اٹھا لے تو دوسرے پر الزام تراشی ہوتی ہے کہ تمھیں نگرانی کرنی تھی۔ متفرق نعرے اور آوازیں جو ریوڑ میں افراتفری اور تناؤ کو جنم دیتی ہیں۔ گڈریوں کی باہمی چپقلش یا دوسرے پر ڈالنے کی عادت کا فائدہ اٹھا کر درندے آسانی سے ریوڑ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انسانوں کے ریوڑ نہیں ہوتے تاہم ان کو قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کسی بھی قوم یا قبیلے میں متعدد قائدین جنم لے لیں تو صورتحال تقریبا وہی ہوتی ہے جو مذکورہ بالا ریوڑ کی ہے۔ ایک کہتا ہے جنازے یہاں ہوں گے، دوسرا کہتا ہے جنازے یہاں ہوں گے۔ ایک کہتا ہے جنازوں پر احتجاج ہونا چاہیئے تاکہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے دوسرا کہتا ہے جنازوں پر سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ درندہ بھی اس تقسیم سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس کی جانب جا کھڑا ہوتا ہے جو خاموشی کی بات کر رہا ہو۔ اس منقسم قیادت سے منصوبہ ساز بھی بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے اسے معلوم ہے کہ ان میں وہ وحدت نہیں ہےجس سے یہ اپنا تحفظ کر سکیں ۔ایسا گروہ دشمن کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن جاتا ہے۔

سانحہ ٹھیڑی سندھ اس وقت کا واقعہ ہے جب شیعان پاکستان کوئی قابل ذکر سیاسی قوت نہ تھے۔ یہ واقعہ 3 جون 1963ء کو سندھ (خیرپور) میں پیش آیا، جہاں یومِ عاشور کے موقع پر ایک پرتشدد واقعے میں درجنوں افراد شہید ہوئے۔ ساوتھ ایشیاء ٹیررزم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق 1989ء سے 2024ء تک مختلف واقعات میں چھے ہزار کے قریب شیعہ قتل ہوئے۔ بعض دیگر اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق شہید ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے۔ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات پاڑاچنار، کوئٹہ، کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ ان واقعات کے سبب سینکڑوں خاندان نقل مکانی کرکے پاکستان کے محفوظ علاقوں یا بیرون ملک جا بسے ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والوں میں لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان اور داعش شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے گذشتہ چند دہائیوں میں اگرچہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا ہے تاہم یہ تبدیلی ارتقائی ہے۔

اسی کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں افغان جہاد کے سبب یہ سب لشکر حکومت پاکستان کی گڈ بکس کا حصہ تھے، پھر رفتہ رفتہ جب ان گروہوں نے پاکستانی عوام اور ریاست کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو حکومت نے ان کے مراکز اور شخصیات کے خاتمے کا سلسلہ شروع کیا جو اب تک نامکمل ہے۔ اب تو شیعان پاکستان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کس جرم میں اور کیوں مارا گیا۔ شیعہ قتل و غارت کے جواز کے طور پر بعض حلقوں کی جانب سے توہین صحابہؓ کی دلیل پیش کی جاتی ہے، مگر اہل اسلام یہ دلیل پیش کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں ایک قانون موجود ہے اور اسلام کے قوانین بھی سزا کے لیے ایک نظام رکھتے ہیں۔ جرم کوئی کرے اور قتل کسی کو کیا جائے یہ انصاف اور اسلام  کے سراسر خلاف ہے۔ بات اکا دکا واقعات کی نہیں پاکستان میں منظم انداز سے گروہ، جماعتیں اور لشکر شیعہ قتال میں ملوث ہیں جو مدارس، اجتماعات اور جلسوں میں ذہن سازی کرتے ہیں اور ریاست میں امن و امان کو یقینی بنانے والے ادارے سب کچھ سن کر کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔

جہاں نیت خالص ہو وہاں اصلاح کا کام بنیاد سے کیا جاتا ہے، مدرسہ، نصاب، خطبہ، تقریر جو نفرت کو ہوا دے کو ابتداء سے ہی روکنا ضروری ہے۔ ایران نے بھی روس کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی اور لاکھوں مہاجرین کو ایران میں بسایا لیکن وہاں نہ دہشتگردی عام ہوئی نہ ہی لشکر بنے۔ پاکستان میں ان لشکروں کا قیام حکومتی نااہلی یا بدنیتی ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریاست پاکستان کے اداروں نے بلاوجہ پاکستان کے شیعوں کو ایک فاضل وجود سمجھ لیا ہے، جن کی تاریخ پاکستان کے قیام، استحکام اور سربلندی سے جڑی ہوئی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ قتل ہوتے رہے تاہم کبھی بھی مسئلہ کو بنیاد سے درست کرنے کی نوبت نہیں آئی، آج بھی ریاستی ادارے ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ واقعہ ہونے کے بعد کوئی وزیر یا مشیر جائے وقوعہ پر جاکر ہمدردی کے دو بول، بول دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ شیعہ قوم اس ظلم پر آواز بھی نہ بلند کریں۔ چند روز گزرنے کے بعد سب بھلا دیا جاتا ہے۔

پہلے پہل تو ہمدردی کے ساتھ متاثرین کے لیے کچھ مالی معاونت کے اعلانات کیے جاتے تھے جس کا سلسلہ اب روک دیا گیا ہے۔ کل بروز جمعہ اسلام آباد کے دیہی علاقے ترلائی کلاں میں ایک خودکش دھماکا ہوا جس میں متضاد اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری شہید ہوئے، متعدد زخمی ہیں مگر حکومت کی جانب سے اب تک متاثرین کے لیے زبانی تسلی کے علاوہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ میں آج زخمیوں کو دیکھ کر آیا ہوں جن میں سے اکثر غریب لوگ ہیں، حکومت کو ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیئے۔ مالی امداد اگرچہ ان کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتی ہے تاہم اس سے کئی خاندانوں کا روزگار برقرار رہنے کا امکان  ضرور ہے اور ایسا کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

یہ باتیں مجھے نہیں قیادت کو کہنی چاہیئے تھیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قیادت سے کہا جائے "ہر کوئی ذمہ دار ہے اور کوئی ذمہ دار نہیں"۔ اگر قائدین سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکومت سے کوئی توقع نہیں یا ہم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے کہ حکومت سے مدد لیں تو ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ کیا ہمارے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو کمانے والوں کی غیر موجودگی میں خاندانوں کی کفالت کرسکیں؟ میرے علم کے مطابق اکا دکا اداروں کے علاوہ کوئی ایسا نہیں جو مجبوروں اور کسم پرسی میں جینے والوں کا سہارا بنے۔

کسی دوسرے سے کوئی تقاضا کرنے سے قبل میں شیعہ قیادتوں سے کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کو واقعی قوم کا درد ہے تو قوم  اور اس کے حقوق کے تحفظ کی ایک یکسو پالیسی مرتب کریں۔ تسلیوں اور ہمدردیوں کا کام تو حکومتی اراکین بھی آکر کرتے ہیں، جنازے تو وہ بھی پڑھ جاتے ہیں۔ آپ بھی اگر اسی پر قوم کو ٹرخا دیں گے تو ان میں اور آپ میں بھلا کیا فرق رہ جائے گا۔ جب تک آپ قومی سیکورٹی کی متفقہ اور مشترکہ پالیسی مرتب نہیں کرتے اس وقت تک دہشت گردی کے ایسے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے، حکومت بھی اسی وقت آپ کی آواز پر کان دھرے گی جب آپ ایک مشترکہ موقف کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ورنہ منقسم ریوڑ پر کوئی رحم نہیں کھاتا اور وہ ہمیشہ آسان ترین ہدف ہوتا ہے۔ عوام کو بھی ہلا ہلا کے بجائے دیکھنا چاہیئے کہ کون ان کے فائدے کی بات کر رہا ہے ان کا گروہی و پارٹی تعصب بھی خود ان کے لیے نقصان دہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کوئی ذمہ دار پاکستان کے حکومت سے کے مطابق کہتا ہے ہیں کہ ہے اور ہیں جو کے لیے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف