پی ایس ایل فرنچائز ملتان 2 ارب 45 کروڑروپے میں فروخت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان 2 ارب 45 کروڑ کی خطیر رقم میں ولی ٹیک نے خرید لی۔چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے ملتان سلطانز کی بولی کے عمل کا آغاز کیا، بولی کے عمل میں 5 بڈرز شریک ہوئے جبکہ ملتان کی ٹیم کی نیلامی کیلیے بیس پرائس 182 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔بولی کے آغاز پر سی ڈی وینچرز نے 215 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور پھر بڑھاتے ہوئے 226 تک پہنچی، اس کے بعد ولی ٹیک نے ملتان سلطانز کی نیلامی کی سب سے زیادہ بولی 245 کروڑ روپے لگا کر کامیابی حاصل کرلی۔پی سی بی کے مطابق مقررہ وقت کے اندر کْل 6 پروپوزلز موصول ہوئے، جن کی تفصیلی اور شفاف جانچ کے بعد 5 بڈرز کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا جنہوں نے نیلامی میں حصہ لیا۔ملتان کی ٹیم کی فروخت کے اس عمل نے پی ایس ایل کی مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، کیونکہ 2 ارب 45 کروڑ روپے کی قیمت نے اسے سب سے مہنگی فرنچائز بنا دیا۔ولی ٹیکنالوجیز گروپ نے فرنچائز کی خریداری کے ساتھ ہی ٹیم کا نام راولپنڈی رکھنے کا اعلان کردیا۔واضح رہے کہ ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے 10 سالہ ملکیت کے معاہدے کی تجدید سے انکار کیا تھا جس کے بعد پی سی بی نے فرنچائز کی نیلامی کا اعلان کیا تھا، تاہم پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کی نیلامی کی کامیابی کے بعد کرکٹ بورڈ نے ملتان سلطانز کو بھی نیلام کرنے کا فیصلہ کیا۔پی ایس ایل 11 میں 8 ٹیمیں شامل ہوں گی، جن میں ایک حیدرآباد اور سیالکوٹ کی ٹیمیں پہلی بار میدان میں اتریں گی، جن کی حال ہی میں نیلامی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل کی نیلامی نیلامی کی کروڑ روپے کے بعد
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔