بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ‘ خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بھیک مانگنا اب محض ضرورت نہیں بلکہ ایک منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے۔ انہوں نے ماضی کی افغان پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے سانحے میں کوئی افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ہم دو دہائیوں تک کرائے کے سپاہی بن کر دوسروں کی جنگ لڑتے رہے اور آخر میں ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں کے فریق بنے جو کسی صورت “جہاد” نہیں تھا بلکہ ایک سپر پاور کی جنگ تھی جس میں ہم ڈکٹیٹروں کے مفاد کی خاطر شریک ہوئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں اب بھی عقل نہیں آئی، ہم نے غیر ملکی حملہ آوروں کے ناموں پر سڑکیں رکھیں لیکن اپنے ہیروز کو ہیرو تسلیم نہیں کیا۔ وزیر دفاع نے زور دیا کہ جب تک ہم ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے؛ ہمیں اپنی شناخت کے لیے سرحد پار دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سیاست میں صبر و تحمل اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔