افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کو دور لے جانے کے بدلے 10 ارب روپے مانگے تھے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان حکومت نے ٹی ٹی پی کو دور لے جانے کے بدلے دس ارب روپے مانگے، اس کے باوجو افغانستان گارنٹی دینے کو تیار نہیں تھا، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست میں صبر و تحمل کو فروغ دیا جائے، اختلافات اپنی جگہ، ہمیں دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم 2 جنگوں میں فریق بنے، جو افغانستان میں لڑی گئیں، ہم اس میں اسلام کی محبت میں شریک نہیں ہوئے، ڈکٹیٹروں کے مفاد میں ان جنگوں میں حصہ لیا گیا، یہ کوئی جہاد نہیں تھا، ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والا پاکستانی شہری تھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ محمود اچکزئی اور راجا پرویز اشرف کی بہت سی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی 2 جنگوں کے فریق بنے، روس کے خلاف جنگ کوئی جہاد نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ 2 دہائیوں تک ہم کرایہ پر دستیاب تھے، جب تک ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، آگے نہیں بڑھ سکتے، اپنی شناخت کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں اس کےلیے سرحدوں کے پار نہیں دیکھنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جن کو واپس لاگیا ہمیں اسمبلی میں اس کے متعلق بتایا گیا تھا، انہوں نے ہمارے علاقے کی میپنگ کی، ریکنگ کی، سینٹرز کھولے، سوات میں ان کے آنے پر بڑے بڑے جلوس نکالے گئے تھے، ایک بہت بڑی تعداد تھی جو فیملی سمیت واپس آئے تھے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کی مذمت کرنے میں بھی ہم متحد نہیں ہیں، قومی مسائل پر جھوٹ نہیں بولوں گا، جب ایسی نوبت آئی تو سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے آخر میں افغانستان نے تسلیم کیا تھا، دونوں ممالک کے درمیان کوئی ویزا نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزا وہاں گیا ہوں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی، نائن الیون کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہ کس نے کروایا، ٹوئن ٹاور حملے میں کوئی افغان پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اب ہمیں افغان طالبان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماضی کے 4 سے 5 امریکی صدور نے 10 سے 12 کروڑ مسلمان مارے ہوئے ہیں، انہوں نے تو معمر قذافی کے بیٹے تک کو نہیں چھوڑا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے ، ہم نے اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، آج ہم کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حملہ آوروں کی بجائے اپنے لوگوں کو ہیروز ماننا چاہیے،میں نے اپنے والد کی اس وقت کی حکومت میں شمولیت پر معذرت کی، میرے سوا کسی نے اپنے کردار پر معذرت نہیں کی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو جس طرح شکست دی ہے ،نریندر مودی دنیا بھر میں اور اپنے ملک میں رل گیا ہے،وہ دوبارہ حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مسالک کا ایک تقریر میں ذکر کیا تو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، فون دھمکیوں سے بھرا پڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر دفاع خواجہ صف نے کہا ہے کہ وزیر دفاع نے ا صف نے کہا خواجہ ا صف نے کہا کہ نہیں تھا انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔